خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 298
خطبات طاہر جلدم 298 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ طرز زندگی بتا رہا ہوں جو ان مخالفوں کی نزدیک شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ ہے) اس وقت ایک احمدی دوست میاں نظام دین صاحب ساکن لدھیانہ جو بہت غریب آدمی تھے اور ان کے کپڑے بھی دریدہ تھے حضور سے چار پانچ آدمیوں کے فاصلہ پر بیٹھے تھے۔اتنے میں چند معزز مہمان آکر حضور کے قریب بیٹھتے گئے اور ان کی وجہ سے ہر دفعہ میاں نظام دین کو پرے ہٹنا پڑا حتیٰ کہ وہ ہٹتے ہٹتے جو تیوں کی جگہ پر پہنچ گئے۔اتنے میں کھانا آیا تو حضور نے جو یہ سارا نظارہ دیکھ رہے تھے ایک سالن کا پیالہ اور کچھ روٹیاں ہاتھ میں اٹھالیں اور میاں نظام دین سے مخاطب ہو کر فرمایا : ” آؤ میاں نظام دین صاحب ہم اور آپ اندر بیٹھ کر کھانا کھائیں۔یہ فرما کر حضور مسجد کے ساتھ کوٹھڑی میں تشریف لے گئے اور حضور نے اور میاں نظام دین نے کوٹھڑی کے اندر اکٹھے بیٹھ کر ایک ہی پیالہ میں کھانا کھایا۔( اصحاب احمد جلد چہارم روایات ظفر روایت نمبر ۴۲ صفحه ۱۵۹) یہ ہے شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ جو ان کو اسلام کے لئے ایک نہایت ہی خوفناک خطرہ دکھائی دے رہا ہے اور وہ یہ اعتراض کر رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی آخری زندگی میں لکھ پتی ، کروڑ پتی ہو کر اپنے رشتہ داروں کے لئے بے شمار دولت چھوڑی تھی اور یہ کہ آپ کا پہلا زمانہ اور تھا اور آخری زمانہ اور تھا، یہ نقشہ وہ کھینچ رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وفات سے ایک دن پہلے کا حال کیا تھا سنئے۔بھائی عبد الرحمان صاحب قادیانی نو مسلم کی گواہی ہے کہ جس دن صبح کے وقت حضور نے فوت ہونا تھا اس سے پہلی شام کو جب حضور فٹن میں بیٹھ کر سیر کیلئے تشریف لے جانے لگے تو مجھے خصوصیت کے ساتھ فرمایا: ”میاں عبدالرحمان ! اس گاڑی والے سے کہہ دیں اور اچھی طرح سمجھا دیں کہ اس وقت ہمارے پاس صرف ایک روپیہ ہے وہ ہمیں صرف اتنی دور تک لے جائے کہ ہم اسی روپے کے اندر گھر واپس پہنچ جائیں“۔سیرت المہدی روایات بھائی عبد الرحمان صاحب قادیانی و اصحاب احمد جلد ۹ صفحه ۲۷۸)