خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 276 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 276

خطبات طاہر جلدم 276 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء استعمال کرتے ہوئے ان کا دل کیوں نہیں لرزا۔ایک طرف ختم نبوت کے دعوے اور دوسری طرف کائنات کے مقدس ترین وجود پر نا پاک فلمی شعروں کا اطلاق اور پھر تصور یہ کہ آنحضرت ﷺ کی خدا تعالیٰ سے لقاء پہلی دفعہ ہوئی۔حالانکہ ہر وقت خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کے ساتھ بستا تھا چنانچہ غار ثور میں آپ کا یہ فرمانا لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ہم نہ کر اللہ یقینا ہمارے ساتھ ہے بتاتا ہے کہ آپ ایک لمحہ بھی خدا کے بغیر نہیں رہے۔اس قدر خوفناک گستاخی کے باجود یہ لوگ محبان رسول ﷺ کا دعوی کرتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کے عظیم مقام کے بیان کے لئے فلمی شعروں سے بہتر کوئی بات نہیں ملی۔اب آخر پہ مولوی مودودی صاحب کا تبصرہ بھی سن لیجئے۔اس سے یہ اندازہ ہو جائے گا کہ یہ کتنا بڑا مقام رکھتے ہیں۔آج کل ان کی جماعت ایک منظم جماعت ہے جو احرار کے علاوہ حکومت کا دوسرا بازو ہے۔مولوی صاحب فرماتے ہیں: افسوس کہ علماء (الا ماشاء اللہ ) خود اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہو چکے تھے (پہلے تو عوام الناس پر انہوں نے فتویٰ صادر فرمایا تھا۔اب علماء کی بات ہو رہی ہے ) ان میں اجتہاد کی قوت نہ تھی ان میں تفقہ نہ تھا۔ان میں حکمت نہ تھی۔ان میں عمل کی طاقت نہ تھی۔ان میں یہ صلاحیت ہی نہ تھی کہ خدا کی کتاب اور رسول خدا کی علمی و عملی ہدایت سے اسلام کے دائمی اور لچکدار اصول اخذ کرتے اور زمانہ کے متغیر حالات میں ان سے کام لیتے ان پر تو اسلاف کی اندھی اور جامد تقلید کا مرض پوری طرح مسلط ہو چکا تھا جس کی وجہ سے وہ ہر چیز کو ان کتابوں میں تلاش کرتے تھے جو خدا کی کتابیں نہ تھیں کہ زمانے کی قیود سے بالا تر ہوتیں وہ ہر معاملہ میں انسانوں کی طرف رجوع کرتے تھے جو خدا کے نبی نہ تھے کہ ان کی بصیرت اوقات اور حالات کی بندشوں سے بالکل آزاد ہوتی۔پھر یہ کیوں کر ممکن تھا“۔یہ تجزیہ سنے والا ہے۔کیوں عالم اسلام پر تباہی آگئی۔کیوں ہلاکت کا دور دورہ ہوا اس لئے کہ جن علماء کی طرف مسلمان عوام نے رجوع کیا وہ خدا کے نبی نہ تھے کہ ان کی بصیرت ، اوقات