خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 275
خطبات طاہر جلدم 275 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء علماء میں سے اکثر پر شیطان غلبہ پا چکا ہے (یہ اس زمانے کی بات ہے جب احمدیت کا ابھی وجود بھی نہ تھا ) اور ان کی سرکشی نے انہیں گمراہ کر دیا ہے اور ان میں سے ہر ایک اپنے دنیوی فائدہ کا عاشق ہے حتی کہ نیکی کو برائی اور برائی کو نیکی خیال کرنے لگا ہے اور علم دین مٹ چکا ہے اور دنیا میں ہدایت کے مینار گر چکے ہیں اور علماء نے لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا کر دیا ہے کہ علم کی اب تین صورتیں ہیں“۔حیرت ہے میں سوچا کرتا تھا کہ یہ بعد کی پیداوار ہے لیکن اس اقتباس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ انحطاط تو بڑی دیر سے شروع ہو گیا تھا۔بڑا ظلم ہے امت محمدیہ میں بڑی مدت سے یہ فساد شروع ہے۔علماء حق اور علماء ربانی اس کے خلاف آواز بھی بلند کرتے رہے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ قضائے آسمانی ہے جس کا مقابلہ ہو نہیں سکتا۔مزید فرماتے ہیں کہ علماء کی حیثیت اب صرف تین اغراض کے لئے رہ گئی ہے یا ان کے نزدیک علم کی اب تین صورتیں ہیں: اول۔حکومت کا وہ فتویٰ جس کی مدد سے قاضی ، غنڈوں کے جمع ہونے پر جھگڑوں کا فیصلہ کرتے ہیں۔دوم وہ بحث جس میں ایک متکبر آدمی دوسرے پر غلبہ حاصل کرتا ہے اور اس کا منہ بند کرتا ہے (اپنے تکبر کے زور سے نہ کہ دلیل سے ) سوم وہ منظوم اور مسیح کلام جس کے ذریعہ ایک واعظ عوام کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرتا ہے“۔کتاب الاملاء عن اشکالات الاحیاء جلد ۵ صفحه ۲۱۹-۲۲۰) دوستوں نے اگر بعض مساجد سے وعظ سنے ہوں یا درس سنے ہوں تو سمجھ آجائے گی کہ امام غزائی کیا بیان فرمانا چاہتے تھے۔مولوی لوگ گا گا کر کبھی قرآن کی کوئی آیت پڑھتے ہیں اور کبھی کسی حدیث کی بات ہورہی ہوتی ہے اور ساتھ یوسف زلیخا کے قصے شروع کر دیتے ہیں، بیچ میں ہیر وارث شاہ چل پڑتی ہے۔یہاں تک کہ فلمی گانے بھی بیچ میں لے آتے ہیں اور کہنے کو قرآن کریم اور حدیث کی تشریح ہورہی ہوتی ہے اور اس لغویات کو آنحضرت علی کے معراج کی تشریح میں پیش کرتے ہیں۔نعوذ باللہ من ذالک۔حیرت ہے کہ اتنے پھر فلمی شعروں کو حضرت محمد مصطفی عالے کے لئے