خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 277 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 277

خطبات طاہر جلدم 277 اور حالات کی بندشوں سے بالکل آزاد ہوتی۔پھر یہ کیوں کر ممکن تھا کہ : وو خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء وہ ایسے وقت میں مسلمانوں کی کامیاب رہنمائی کر سکتے جبکہ زمانہ بالکل بدل چکا تھا اور علم و عمل کی دنیا میں ایسا عظیم تغیر واقع ہو چکا تھا جس کو خدا کی نظر تو دیکھ سکتی تھی ، مگر کسی غیر نبی انسان کی نظر میں یہ طاقت نہ تھی کہ قرنوں اور صدیوں کے پردے اٹھا کر ان تک پہنچ سکتی۔تنقیحات: اسلام اور مغربی تہذیب کا تصادم از ابوالاعلیٰ مودودی صفحه ۲۷ ز بر عنوان دور جدید کی بیمار قومیں ) اب کیا قصہ ہے اس کو دوبارہ غور سے سنئے۔یہ فقرہ بڑا غیر معمولی ہے۔یہ آپ کے لئے ایک پیغام رکھتا ہے۔فرماتے ہیں پرانے علماء کیوں ناکام ہوئے ، امت مسلمہ میں کیوں فساد پھیلا۔اس لئے کہ علماء سے ان کو یہ توقع تھی کہ بدلے ہوئے زمانہ کے ساتھ جو مصائب نئے نئے آئے ہیں نئی نئی آفات جو اسلام پر حملہ آور ہوئی ہیں ان کا حل تلاش کریں۔ان سے پوچھیں۔مگر مولوی مودودی صاحب کہتے ہیں کہ بدلے ہوئے حالات میں علماء اس قابل نہ تھے یا خدا کی نظر ہے جو حقیقت حال کو پاسکتی ہے اور یا نبی کی نظر ہوا کرتی ہے جو خدا کی طرف سے عرفان حاصل کرتی ہے۔کہتے ہیں کہ یہ دونوں صورتیں نہیں ہیں۔پھر قرنوں اور صدیوں کے پردے کیسے اٹھ سکتے ہیں اور ساتھ یہ پیغام دے رہے ہیں کہ میری مانو اور میری سنو۔میں تمہارے لئے ہدایت اور نئی زندگی کا پیغام لایا ہوں۔کیا دعاوی ہیں۔کیا خدا کی طرف سے پیغام لائے ہیں اور ان کی نظر وہ پردے پھاڑ کر دیکھ رہی ہے جو تمام علماء امت اور تمام صدیوں کے بڑے بڑے بزرگ اور مجددین نہیں دیکھ سکے۔ایک ہی سانس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جھٹلاتے بھی ہیں تکفیر بازی بھی جاری ہے اور کہتے ہیں فتنہ وفساد پھیلا دیا مگر دوسرے سانس میں یہ بھی اعلان ہو رہا ہے کہ میں ہدایت کا سرچشمہ بن کر تمہارے لئے آیا ہوں، میری کتابوں میں تمہارے سارے مسائل کا حل موجود ہے۔اس لئے اس جماعت میں شامل ہو جاؤ تا کہ اسلام زندہ ہو جائے۔تو کیا یہ خدائی کا دعوی ہے، یا نبوت کا دعویٰ ہے اور اگر ان دونوں کا نہیں تو پھر جھوٹ بولتے ہیں۔اگر تم سچے ہوتے اور واقعی سچے ہوتے تو تمہیں یہ اقرار کرنا چاہئے تھے کہ نئی آفات اور نئے مصائب کے وقت خدا تعالیٰ عارف باللہ نبی کو مبعوث کرتا ہے جس کے سوا اور کسی شخص کی نظر مسائل کی تہ تک نہیں پہنچ سکتی اور اس کے سوا مسائل کا صحیح حل کوئی بھی تلاش نہیں کر سکتا۔