خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 248
خطبات طاہر جلد۴ 248 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء لَا يُقَاتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِي قُرًى مُحَصَّنة انہوں نے دنیوی طاقتوں کی جو دیوار میں کھڑی کی ہوئی ہیں ان کے پیچھے سے حملے کرتے ہیں اور ان کا یہ رویہ صرف ایک سمت میں نہیں ہوتا ہر سمت میں ان کا یہی طریق کار ہوتا ہے اور یہ طریق کار کسی صاحب نظر سے چھپ نہیں سکتا۔دنیا میں اس وقت بڑی بڑی طاقتیں اسلام دشمنی میں پیش پیش ہیں جس کی وجہ سے اسلام کو کئی قسم کے خطرات لاحق ہیں لیکن مخالفین احمدیت اپنے محفوظ قلعوں میں بیٹھ کر تمہارے خلاف صرف باتیں ہی کر سکتے ہیں مگر یہ جرات اور یہ توفیق کہ باہر نکل کر اسلام دشمن طاقتوں کا مقابلہ کریں اور ان کو رگید میں اور ان کو چیلنج دیں یا ان کے گھیرے میں آکر پھر ان کا مقابلہ کریں اس کی توفیق ان کو نہیں ملتی۔یہ توفیق کس کومل رہی ہے؟ یہ میں بعد میں بتاؤں گا۔پھر فرمایا تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں اور تم سمجھے رہے ہو کہ وہ اکٹھے ہو گئے ہیں۔کیوں سمجھ رہے ہو کہ اکٹھے ہو گئے ہیں۔اس لئے کہ اس میں ایک گہرا فلسفہ بیان فرمایا ہے اور وہ یہ کہ ان کا اجتماع تمہاری مخالفت کی وجہ سے عمل میں آیا ہے۔فی ذاتہ ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ایک دوسرے کے شدید دشمن ہونے کے باوجود ان پر تمہاری دشمنی اور تمہارا خوف اتنا غالب ہے کہ اس وقت وہ اپنی دشمنیوں کو بھلا دیتے ہیں لیکن دراصل یہ جینے کے آثار نہیں ہیں۔جینے کے آثار تو یہ ہوتے ہیں کہ فی ذاتہ محبت کی ایک اندرونی قوت ہو جو قو م کو اکٹھا کر رہی ہو۔چنانچہ محاورہ اس کو الكُفُرُ مِلَّة وَاحِدَة کہا جاتا ہے، کفر میں تم ملت واحدہ کی جو صورت دیکھتے ہو وہ انکار کی طاقت کی بناء پر ہے، کسی کے انکار کی وجہ سے اکٹھے ہور ہے ہیں، کسی مثبت وجہ سے اکٹھے نہیں ہور ہے ذلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ ان میں عقل بالکل نہیں ہے۔اس اجتماع یا اتحاد کے تو کوئی معنی نہیں ہوا کرتے۔اگر کوئی ایسا Factor ظاہر ہو جائے جو Common Value پر مشتمل ہو یعنی ایک دشمن کے تصور یا خوف کی بناء پر لوگ اکٹھے ہو جا ئیں تو اس میں کوئی وقعت نہیں ہوتی کیونکہ ایسی صورت میں تو جانور بھی اکٹھے ہو جایا کرتے ہیں۔بعض دفعہ حالات سے مجبور ہوکر شیر اور بکری بھی اکٹھے ہو جایا کرتے ہیں۔بھیڑیئے اور بھیڑیں بھی اکٹھی ہو جایا کرتی ہیں۔چنانچہ ایک مصور نے اس تصور کو اس طرح باندھا ہے کہ اس نے تصویر میں ایک نہایت ہی خوفناک آندھی اور طوفان دکھایا اور بجلیاں گرنے کا خوفناک منظر پیش کیا اور بیچ میں جس طرح بگولا اپنے اندر چیزوں کو