خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 249 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 249

خطبات طاہر جلدم 249 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء سمیٹ لیتا ہے اس طرح شیر بھی ہیں، بھیڑیئے بھی ہیں ، سو ر بھی ہیں اور بھیڑ بکریاں اور ان کے بچے بھی ہیں اور گھوڑے بھی اور یہ سارے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں، یہی نہیں لاکھوں سال پہلے کی جو قبریں دریافت ہوئی ہیں ان میں بھی یہی مناظر دیکھنے میں آئے ہیں۔بعض دفعہ نہایت خوفناک ہلاکتوں نے بعض علاقوں سے زندگی کا نام ونشان مٹا دیا تو اس وقت وہ جانور جو ایک دوسرے کے شدید دشمن تھے وہ اس طرح اکٹھے ہو گئے کہ بالآخر جب ان پر موت آئی تو ان کی اکٹھی قبر بن گئی گویا ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بڑی محبت کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں مگر یہ وقتی محبتیں زندگی نہیں بخشا کرتیں۔یہ تو ایک خوف کی وجہ سے ایک منفی طاقت کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں مگر صاحب عقل لوگ وہ ہوتے ہیں جو مثبت طاقتوں پر ا کٹھے ہوتے ہیں۔محبتوں کے نتیجہ میں ان کے دل ملتے ہیں، ان میں رُحَمَاء بَيْنَهُمْ (الفتح:۳۰) کا نقشہ نظر آتا ہے۔فرمایا! ان کا حال بھی وہی ہو گا جو ان سے پہلے قدیم قوموں کا گزر چکا ہے۔یہ لوگ بچا نہیں کرتے وَلَهُمْ عَذَاب الیم اور چونکہ یہ خدا کی تقدیر سے ٹکر لے رہے ہیں۔اس لئے دردناک عذاب سے بچ نہیں سکتے۔اس وقت جماعت احمدیہ پر جو حالات گزر رہے ہیں اور ان کا جو نقشہ بن رہا ہے وہ انہی آیات کی تفسیر نظر آرہا ہے۔چنانچہ جماعت احمدیہ پر زبان سے بھی حملے کئے جارہے ہیں اور قلم سے بھی کئے جارہے ہیں، جسمانی اذیتیں دے کر اور جیلوں میں ٹھونس کر بھی دکھ دیئے جارہے ہیں اور جماعت کی قیمتی جانوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کر کے دکھ پہنچائے جارہے ہیں۔مزعومہ قرطاس ابیض بھی انہی آیات کریمہ کی ایک منفی حیثیت کی تصویر پیش کرتا ہے۔چنانچہ اس میں جماعت احمدیہ کے متعلق جو بہتان تراشی سے کام لیا گیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔۱۹۵۳ء کی تحریک کا ذکر کرنے کے بعد اس سے کچھ نتائج نکالے گئے ہیں لیکن سب سے پہلے مزعومہ قرطاس ابیض میں جماعت احمدیہ کا یہ تجزیہ پیش کیا گیا ہے: اس کی ابتداء ایک استعماری طاقت کی انگیخت پر ہوئی اور جیسے جیسے وقت گزرتا گیا یہ مسئلہ پیچیدہ سے پیچیدہ ہوتا چلا گیا اس نے نہ صرف برصغیر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے درمیان تلخی اور تفرقہ پیدا کیا بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک