خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 247 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 247

خطبات طاہر جلدم 247 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء۔ان کے دل میں نہیں رہتا۔پس ایسے لوگ جو حق و صداقت پر قائم ہوتے ہیں، مخالفین ان کی ہر دلیل بھلا دیتے ہیں اور خدا خوفی چھوڑ کر اور تقویٰ سے عاری ہو کر پھر ان پر حملے کرتے ہیں اور یہ طریق مقابلہ بتاتا ہے کہ ان کو خدا کا خوف ہے ہی نہیں۔اگر خدا کا خوف ہوتا تو سچائی کے مقابل پر اوچھے ہتھیار کیوں استعمال کرتے ، کمینی حرکتیں کیوں کرتے ، جھوٹ اور دغا بازی سے کیوں کام لیتے۔پس خوف ہے اس قوت کا جو اپنی ذات میں ابھرتی ہوئی انہیں دکھائی دے رہی ہوتی ہے۔بظاہر وقتی طور پر وہ اتنی غیر معمولی طاقت اختیار نہیں کر چکی ہوتی کہ اس کے خلاف یہ حملے نہ کریں، اسے دبانے کی کوشش نہ کریں، اس کے خلاف ظلم و ستم سے کام نہ لیں ،اگر ایسا خوف نہ ہوتا تو ان کو ضرورت کیا تھی کہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے غلاموں پر حملے کرتے۔پس یہ خوف اس فرقان کا خوف ہے، اس برہان کا خوف ہے جو اسلام اپنے ساتھ لایا تھا۔یہ ویسا ہی خوف ہے جیسے اندھیرے کو روشنی سے ہوتا ہے۔صبح کی پہلی کرن سے بھی رات خوف کھاتی ہے، اگر چہ وہ رات کو دبا نہیں سکتی لیکن رات کا دل جانتا ہے کہ صبح کی پہلی کرن مجھے کھا جائے گی اور اس دنیا سے میرا وجود مٹادے گی۔چنانچہ صداقت کے دشمنوں کو بھی اس قسم کا خوف ہوا کرتا ہے اور پھر یہ جو حملے کرتے ہیں ان حملوں کی طرز میں بھی وہی خوف جاری رہتا ہے اور نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔چنانچہ جماعت احمدیہ کے ساتھ اس وقت جو ظلم روا ر کھے جا رہے ہیں ان میں بھی یہ پہلو موجود ہے اور دوسرا پہلو بھی موجود ہے جس کا آیہ کریمہ لَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِي قُرًى مُحَصَّنَةٍ میں ذکر کیا گیا ہے کہ تم پر یہ حملے محفوظ قلعہ بند شہروں میں بیٹھ کر کرتے ہیں، ایسے ممالک میں کرتے ہیں جہاں ان کو پتہ ہوتا ہے کہ آگے سے جواب نہیں دیا جاسکتا، ایسے ممالک سے کرتے ہیں جہاں ان کو پتہ ہوتا ہے کہ انہیں ظاہری طور پر مادی غلبہ حاصل ہے اور یہ لوگ حکومتوں کی حفاظت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔جہاں کھلی آزاد دنیا ہے وہاں تمہارا مقابلہ کرتے ہوئے ان کی جان نکلتی ہے اور تمہیں دیکھ کر وہاں سے بھاگتے ہیں کیسی عظیم بات بیان فرمائی ہے قرآن کریم نے اور کیسا نفسیاتی نکتہ کھولا اور فرمایا کہ ان کی طر ز مجادلہ تمہیں بتادے گی کہ بزدل لوگ ہیں۔جماعت احمدیہ کی کتابیں ضبط کرنا اور اپنی طرف سے حملے کرتے چلے جانا اور دوسری طرف سے بات کرنے کی اجازت نہ دینا یہ وہی قصہ ہے جو قرآن کریم میں ان الفاظ میں بیان ہو رہا ہے۔