خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 217
خطبات طاہر جلدم 217 خطبہ جمعہ ۸ مارچ ۱۹۸۵ء کے سپرد کیا گیا تھا ہمیں آپ پر جو اعتماد تھا اسے آپ نے بہت جلد پورا کر دکھایا۔جنگ میں دشمن کی بہت بھاری بڑی اور ہوائی طاقت کے مقابل پر آپ نے اپنی زمین کا ایک انچ بھی دیئے بغیر اپنی ذمہ داری کو احسن طور پر نبھایا۔“ یہ ہے آج کی حکومت کے نزدیک پاکستان اور اسلام اور اسلامی ممالک کے غداروں کی کہانی ہم بھی تو پھر ایسے غدار پیدا کر کے دکھاؤ۔پھر یہ بھی عجیب بات ہے اور بڑی احسان فراموشی ہے اس لحاظ سے کہ فوجی حکومت کو کم سے کم اپنے فوجیوں کا تو لحاظ کرنا چاہئے۔خصوصاً ان فوجیوں کا جنہوں نے ستارہ قائد اعظم اور ہلال جرات جیسے عظیم اعزاز کئے ہیں اور جن کی داستان شجاعت پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے رقم ہے۔لیکن افسوس ہے کہ احمدیت کی دشمنی میں ملک و ملت کی خاطر بے مثال قربانیاں پیش کرنے والوں کا نام بھی آج ذلیل کیا جا رہا ہے اور دو دو کوڑی کے اخباروں میں دو کوڑی کے آدمیوں سے مضامین لکھوائے جارہے ہیں کہ گویا یہ سارے غدار تھے۔لیکن ان کے متعلق کل تک کیا کہہ رہے تھے، یہ تاریخی حقائق ہیں وہ بھی ذرا سن لو۔جنرل اختر حسین ملک اور جنرل عبدالعلی ملک اور ہمارے دوسرے جرنیلوں اور فوجیوں کے متعلق رسالوں میں ایسے ایسے بیہودہ مضامین لکھوائے جارہے ہیں کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ مخالفت میں کس قدر پاگل ہو رہے ہیں۔چنانچہ جنرل (ریٹائرڈ) سرفراز خان ہلال جرأت جو افواج پاکستان میں ایک بڑا مقام رکھتے ہیں اب تو وہ بہت دیر سے ریٹائر ہو چکے ہیں وہ اپنی یاد داشتوں کی بناء پر پاکستان اور ہندوستان کی جنگوں پر تبصرہ کرتے ہوئے اخبار ” جنگ لاہور ۶ /ستمبر ۱۹۸۴ء صفحہ ۳ کالم نمبر ۶ ، ے میں لکھتے ہیں: ” جس ہنر مندی سے اختر ملک نے چھمب پر اٹیک کیا اسے شاندار فتح کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا۔وہ اس پوزیشن میں تھے کہ آگے بڑھ کر جوڑیاں پر قبضہ کر لیں کیونکہ چھمب کے بعد دشمن کے قدم اکھڑ چکے تھے اور وہ جوڑیاں خالی کرنے کے لئے فقط پاکستانی فوج کے آگے بڑھنے کے انتظار میں تھے۔مگر ایسے نہیں ہونے دیا گیا کیونکہ پکی پکائی پر یحیی خان کو بٹھانے اور