خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 218
خطبات طاہر جلدیم 218 خطبه جمعه ۸ مارچ ۱۹۸۵ء کامیابی کا سہرا ان کے سر باندھنے کا پلان بن چکا تھا۔لیکن نقصان کس کا ہوا بھارت کو مکمل شکست دینے کا موقع ہاتھ سے نکل گیا“۔6 یہ ہیں احمدی غدار! اور ” جنگ ۱۶ار فروری ۱۹۸۳ ء نے اپنے ذرائع سے یہ خبر دی ہے اور اس موضوع پر پاکستان کے مختلف اخباروں میں جو کچھ شائع ہوتا رہا ہے یہ سب کچھ پیش کرنے کا وقت نہیں ہے۔میں مختصراً ان اخباروں وغیرہ کا نام لے دیتا ہوں۔اخبار ”جنگ“ لاہور • ار ستمبر ۱۹۸۴ء، ماہنامہ ’حکایت اپریل ۱۹۷۳ء، رسالہ ”الفتح ، ۲۰ / فروری ۱۹۷۶ء اخبار ”جنگ“۱۲ار اپریل ۱۹۸۳ء، میں یہ واقعات بڑی تفصیل سے درج ہیں۔اسی طرح ” مکتبہ عالیہ ایک روڈ لاہور کی شائع کردہ کتاب ”وطن کے پاسبان میں اسلام کے ان پاکستانی احمدی بہادروں کے شجاعت و جوانمردی کے کارنامے مذکور ہیں جو ایک احمدی کے جذبہ حب الوطنی اور وطن عزیز کی خاطر قربانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں لیکن بہر حال ”جنگ“ ۱۶ / فروری ۱۹۸۳ء یہ بتا رہا ہے کہ ہندوستان کو جنرل اختر حسین ملک سے ایسا شدید خطرہ تھا کہ وزیر اعظم شاستری نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کو خود حکم دیا کہ میجر جنرل اختر حسین ملک کسی صورت میں بھی بچنے نہ پائے۔یہ تو بہت پرانا اخبار نہیں ہے صرف دو سال پہلے کا اخبار ہے۔شورش کا شمیری جس نے ساری زندگی جماعت احمدیہ کی مخالفت میں ضائع کی اس کے دل کا حال سنئے۔جب احمدی لڑتا ہے میدان میں جا کر اسلام کے لئے ، یا مسلمانوں کے لئے یا اپنے وطن کے لئے تو اتنا پیارا لگتا ہے اور ایسا نمایاں ہوتا ہے اس میدان میں کہ دشمن بھی اس وقت واہ واہ کرنے پر مجبور ہو جایا کرتے ہیں۔بعد میں وہ بے شک گالیاں دیتے رہیں۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن جو دل کی آواز ہے، جو صداقت کا کلام ہے وہ تو دل سے بے اختیار نکل آتا ہے۔تو شورش کا شمیری نے اس وقت جب جنرل اختر ملک کے کارنامے دیکھے تو وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گیا۔دہلی کی سر زمین نے پکارا ہے ساتھیو اختر ملک کا ہاتھ بٹاتے ہوئے چلو گنگا کی وادیوں کو بتا دو کہ ہم ہیں کون جمنا یہ ذوالفقار چلاتے ہوئے چلو چٹان لاہور 13 ستمبر 1965ء)