خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 216
خطبات طاہر جلدم 216 خطبہ جمعہ ۸/ مارچ ۱۹۸۵ء بعض غیر احمدی خدا ترس لوگوں نے بھی اس بات کو محسوس کیا ہے اور گواہیاں دی ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں۔ایک صاحب حکیم احمد دین صدر جماعت المشائخ سیالکوٹ نے اپنے رسالہ ” قائداعظم“ بابت ماہ جنوری ۱۹۴۹ء میں لکھا: اس وقت تمام مسلم جماعتوں میں سے احمدیوں کی قادیانی جماعت نمبر اول پر جا رہی ہے۔وہ قدیم سے منظم ہے، نماز روزہ وغیرہ امور کی پابند ہے۔یہاں کے علاوہ ممالک غیر میں بھی اس کے مبلغ احمدیت کی تبلیغ میں کامیاب ہیں۔قیام پاکستان کے لئے مسلم لیگ کو کامیاب بنانے کے لئے اس کا ہاتھ بہت کام کرتا تھا۔جہاد کشمیر میں مجاہدین آزاد کشمیر کے دوش بدوش جس قدر احمدی جماعت نے خلوص اور درد دل سے حصہ لیا ہے اور قربانیاں کی ہیں ہمارے خیال میں مسلمانوں کی کسی دوسری جماعت نے بھی ابھی تک ایسی جرات اور پیش قدمی نہیں کی۔ہم ان تمام امور میں احمدی بزرگوں کے مداح اور مشکور ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ملک وملت اور مذہب کی خدمت کرنے کی مزید توفیق بخشے“۔اور اس وقت افواج پاکستان کے جو کمانڈر انچیف تھے انہوں نے فرقان فورس کو نہایت ہی شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور فرقان بٹالین کے نوجوانوں کو ایک سرٹیفکیٹ جاری کیا جس میں ان کی خدمات کا شاندار الفاظ میں ذکر کیا۔یہ ایک لمبا سرٹیفکیٹ ہے اس میں سے دو اقتباسات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔انہوں نے لکھا: " آپ کی بٹالین زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے رضا کاروں پر مشتمل تھی ( جیسا کہ میں نے بتایا ہے سب رضا کاراپنے خرچ پر فوجی خدمات سرانجام دے رہے تھے کوئی تنخواہ دار نہیں تھا ) اس میں نو جوان ، کسان، طلبہ، استاد اور کاروباری لوگ سب کے سب پاکستان کے جذبہ سے سرشار تھے۔آپ نے رضا کارانہ طور پر بے لوث جان کی قربانی پیش کی کوئی معاوضہ طلب نہ کیا اور نہ ہی کسی شہرت کی تمنا کی۔کشمیر میں ایک اہم محاذ آپ