خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 207
خطبات طاہر جلدم 207 خطبہ جمعہ ۸ مارچ ۱۹۸۵ء سے ہندوستان کا احمدی لازماً ہندوستان کا وفادار ہے اور ہمیشہ وفادار رہے گا، انگلستان میں رہنے والا احمدی لازماً انگلستان کا وفادار ہے اور ہمیشہ وفادار رہے گا، پاکستان میں بسنے والا احمدی لازماً پاکستان کا وفادار ہے اور ہمیشہ وفادار رہے گا۔یہ ہے حقیقت حال باقی سب جھوٹ ہے۔اگر یہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے مفاد کے لئے دنیا کے ہر ملک میں بسنے والا احمدی اپنے اپنے ملک کا مفاد بیچ دے تو یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور اس طرح پاکستان کے سوا احمدیوں کو ساری دنیا میں غدار بنانے کے مترادف ہے اور الزام لگانے والے خود بھی یہ نہیں کرتے۔کیا انگلستان میں بسنے والے مسلمان اور عرب میں بسنے والے مسلمان اور افریقہ میں بسنے والے مسلمان اور دیگر براعظموں میں بسنے والے مسلمان تمام کے تمام اپنے اپنے ملکوں کے غدار ہیں؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس لئے یہ ایک فرضی قصہ ہے ایک جذباتی روداد بنا کر پیش کی گئی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ اس قسم کے الزام لگانے والے خود ہی غدار ہیں۔دنیا جانتی ہے کہ اس وقت پاکستان کی حکومت پر دو بھوت سوار ہیں ایک جماعت اسلامی کا اور دوسرا مجلس احرار کا۔جب باہر کی دنیا سے سوال اٹھتے ہیں اور لوگ کہتے ہیں تمہیں کیا ہو گیا ہے تم پاگل ہو گئے ہو اس قسم کی جاہلانہ حرکتیں کیوں کر رہے ہو تو کہتے ہیں یہ جود و مصیبتیں ہیں نا، یہ ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتیں یہ ہماری پیش نہیں جانے دیتیں۔انہوں نے عوام کو خلاف کر دیا ہے عوامی دباؤ کی وجہ سے احمدیوں کے خلاف اقدامات کرنے پر ہم مجبور ہو گئے ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ان دو بھوتوں پر موجودہ حکومت خود سوار ہے اور اپنے مفاد میں ان کو استعمال کر رہی ہے اور۔۔۔۔جہاں تک اور جب تک یہ فائدہ دیں گے اس وقت تک حکومت ان کو استعمال کرے گی اس کے بعد ان کو چھوڑ دے گی۔ادھر جماعت اسلامی اور احراری ملاں بھی یہی نیتیں لے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔دونوں کے ایمان کا ایک جیسا قصہ ہے۔چنانچہ ان کے مفاد سے جب بھی حکومت کا مفاد ٹکرائے گا وہ اس حکومت کو چھوڑ دیں گے اور اپنے مفاد کی باتیں کرنے لگ جائیں گے۔بہر حال یہ ایک مجبوری کی دوستی ہے، مجبوری کا رشتہ ہے جو کسی وقت بھی ٹوٹ سکتا ہے۔ایسے رشتے پہلے بھی ٹوٹتے رہے ہیں اور اب بھی انشاء اللہ ٹوٹ جائیں گے۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جماعت اسلامی اور احراری ملاؤں کا قیام پاکستان سے پہلے