خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 208 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 208

خطبات طاہر جلدم 208 خطبہ جمعہ ۸/ مارچ ۱۹۸۵ء کیا حال تھا۔ان دونوں کا کیا کردار تھا، ان کے نظریات کیا تھے، ہندو اور ہندو ازم کو کیا سمجھتے تھے، مسلمان ممالک کے متعلق ان کا کیا رویہ تھا۔اس کے متعلق ایک دو مثالیں پڑھ کر سنا دیتا ہوں۔سب سے پہلے میں مجلس احرار کو لیتا ہوں۔مجلس احرار کا قیام کیسے عمل میں آیا اس کا پتہ ایک مشہور کتاب سے لگتا ہے جس کا نام Freedom Movement in Kashmir ہے۔یہ کتاب جس کے مصنف کا نام غلام حسن خان ہے ہندوستان سے لائٹ اینڈ لائف پبلشر نیو دہلی نے ۱۹۸۰ء میں شائع کی ہے۔اس میں ۱۹۳۱ء سے ۱۹۴۰ء تک کے عرصہ میں تحریک کشمیر کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔مصنف نے مجلس احرار کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: دو مجلس احرار کا نگریس کے سٹیج پر کانگریس کے سالانہ اجلاس کے موقع پر معرض وجود میں آئی اس کے پہلے صدر مولانا عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری منتخب ہوئے اور اس کا نام مجلس احرار اسلام ہند تجویز ہوا۔پھر آگے جا کر لکھتے ہیں کہ: ”ہندو پنڈتوں نے مسلمانوں کی مجموعی تحریک کو نقصان پہنچانے کے لئے مسلمانوں کی فرقہ بندی سے ناجائز فائدہ اٹھایا۔مجلس احرار کو ہندوؤں نے کس طرح استعمال کیا اس کا ذکر کرتے ہوئے مصنف نے آخر میں لکھا ہے:۔”ہندو پنڈت کمیونٹی نے بعض بااثر مسلمان رہنماؤں اور میر واعظ کے ساتھیوں مرزا غلام مصطفیٰ اسد اللہ وکیل وغیرہ سے خفیہ معاہدہ کیا اور خفیہ اجلاس منعقد کئے اور بھڑ کا یا کہ شیخ عبد اللہ احمد یہ جماعت کے ساتھ مل کر اس کی مذہبی قیادت ( یعنی میر واعظ کی مذہبی قیادت ) ختم کرنا چاہتا ہے اس طرح مسلمانوں میں نفرت کے بیج بوئے گئے“۔پس یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہندوؤں نے اور ہندو کانگریس نے مجلس احرار کو قائم کیا اور اپنے مقاصد کے لئے ان کو استعمال کیا۔یہ ایک کھلی کہانی ہے اس کے کئی اور ثبوت بھی ہیں جن میں سے کچھ تو میں پہلے بیان کر چکا ہوں اور بہت سے ہیں جن کو اس تھوڑے سے وقت میں پیش