خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 206
خطبات طاہر جلدم 206 خطبہ جمعہ ۸/ مارچ ۱۹۸۵ء جماعت اسلامی کا کردار اسلامی مفاد کے خلاف رہا ہے۔اس میں شک کا سوال نہیں ہے، کوئی الزام تراشی کا سوال بھی نہیں ہے، تاریخی حقائق بتا رہے ہیں کہ اسلام اور عالم اسلام کے ہراہم موقع پر ان کا کردار مسلمانوں کے مجموعی مفاد کے خلاف رہا ہے۔سرکاری رسالہ میں جن بہت سی باتوں کی طرف اشارے کئے گئے ہیں ان کی تفصیل بیان نہیں کی گئی مثلاً یہ کہہ دینا کہ جماعت احمد یہ عالم اسلام اور اسلام کے خلاف ہے اس میں وہ سارے الزامات آجاتے ہیں جو مختلف وقتوں میں مختلف شکلوں میں احرار اور جماعت اسلامی کی طرف سے بالخصوص جماعت احمدیہ پر لگائے گئے ہیں اور حالیہ دور میں پاکستان میں جو مختلف جرائد چھپتے رہے ہیں، مختلف اشتہارات شائع ہوتے رہے، کتابیں شائع ہوئیں حکومت پاکستان کی طرف سے ان کی پوری سرپرستی ہوئی۔ان کو زکوۃ فنڈ سے اور دوسری مدات کے پیسوں سے بھر پور مدد دی گئی اور اس بات پر فخر کیا گیا کہ ہم اس تحریک کی سر پرستی کر رہے ہیں اور جو الزامات لگائے گئے وہ بھی بڑے عجیب و غریب ہیں۔چنانچہ ایک الزام یہ بھی لگایا گیا ہے کہ جماعت احمد یہ ہندوستان کی بھی ایجنٹ ہے اور یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ہندو ازم یعنی ہندوؤں کی بھی ایجنٹ ہے۔یہ بھی الزام لگایا ہے کہ احمدی اشتراکیت کے نمائندہ ہیں اور تمام اشتراکی ممالک کے ایجنٹ ہیں اور یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ وہ استعماریت کے نمائندہ ہیں اور تمام استعماری ممالک کے ایجنٹ ہیں گویا مخالفین احمدیت کی عقلیں ماری گئی ہیں جو کہتے ہیں کہ بیک وقت روس کے بھی ایجنٹ ہیں اور اسرائیل کے بھی ایجنٹ ہیں۔دنیا کی ہر طاقت کے ایجنٹ ہیں خواہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے کتنے ہی مخالف ہوں لیکن جب ہم واقعات پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک بالکل مختلف کہانی ابھرتی ہوئی سامنے آتی ہے اور وہ کہانی کہانی نہیں رہتی بلکہ ایک تاریخی حقیقت بن جاتی ہے۔جہاں تک ہندوازم یا ہندوستان کے ایجنٹ ہونے کا تعلق ہے یہ الزام محض لغو ہے اس میں چھوٹے چھوٹے دماغوں کی خود ساختہ کہاوتوں اور کہانیوں کو بنیاد بنایا گیا ہے، اس سے زیادہ ان الزامات کی کوئی بھی حیثیت نہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ جماعت احمدیہ قرآن کریم اور سنت نبوی کے مطابق ایک واضح مسلک رکھتی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس ملک میں احمدی رہتا ہے، جس ملک کا وہ نمک کھاتا ہے، جس کی مٹی سے اس کا خمیر گوندھا گیا ہے وہ اس کا وفادار ہے اور وفادار رہے گا ، اس اعتبار