خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 14
خطبات طاہر جلدم 14 خطبه جمعه ۴ /جنوری ۱۹۸۵ء ایسی پاک تبدیلیاں تھیں اور ایسا لطف آرہا تھا خدا کی خاطر قید ہونے میں کہ ارد گرد جتنے قیدی تھے ان کے اندر بھی تبدیلیاں پیدا ہونی شروع ہوئیں ان کو احمدیت میں دلچسپی پیدا ہوئی ، انہوں نے عزت و احترام کے ساتھ ان کے ساتھ سلوک کرنا شروع کیا۔ان کے اندر خدا تعالیٰ نے بعض ایسی روحانی تبدیلیاں پیدا کر دیں کہ اگر یہ واقعات نہ ہوتے یعنی ان احمدیوں سے اتنا قریب کا انکو واسطہ نہ پڑتا تو بد قسمتی سے شاید وہ جہالت کی موت ہی مرجاتے۔چنانچہ ایک صاحب نے خودان کو بتایا کہ تم لوگوں کو دیکھنے کے نتیجہ میں، وہ ایک ساٹھ سالہ عمر کو پہنچے ہوئے صاحب تھے جن کے اوپر بڑے سفا کا نہ جرائم کے نتیجہ میں مقدمہ چل رہا تھا اور جس شخص کے اندر ساٹھ سال میں تبدیلی نہیں پیدا ہوئی، چند دن خدا کے ان بندوں کی صحبت کے نتیجہ میں اس کے اندر تبدیلی پیدا ہو گئی اور اس نے بتایا کہ ایک دن میں نے بہت دعا کی اپنے رب سے کہ اے خدا! مجھے تو یہ تیرے اچھے بندے نظر آرہے ہیں اگر یہ حق پر ہیں اور واقعہ تیرا ان سے تعلق ہے تو مجھے بھی ایک نشان دکھا کہ یہ دوستید بھائی جو قید میں ہیں مظلوم کل ان کو رہا کروادے تو پھر میں مانوں گا کہ ہاں ان کا بھی کوئی خدا ہے اور پھر میں مانوں گا کہ واقعی یہ تیرے مقرب بندے ہیں۔رات وہ دعا کر کے سوئے اور صبح ساڑھے پانچ بجے اٹھ کر جا کر ان کو خوشخبری دی کہ آج تم آزاد ہو جاؤ گے اور دس بجے اُسی دن جیل کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور وہ جیل سے باہر جارہے تھے۔اس پر لکھنے والا وہ بھی احمدی قید تھا ساتھ اس نے کہا کہ میں ان کے پاس گیا اور میں نے ان سے سوال کیا کہ یہ کیسا عجیب واقعہ ہوا ہے؟ تو اس نے کہا کہ رات مجھے خدا تعالیٰ نے خواب میں خبر دے دی تھی کہ ہم نے تیری دعاؤں کو قبول کر لیا ہے اور صبح تو یہ رحمت کا نشان دیکھے گا چنانچہ مجھے کامل یقین تھا اور میں نے جو صبح ساڑھے پانچ بجے جا کر خبر دی تو خدا کی اطلاع کے نتیجہ میں خبر دی تھی اپنی طرف سے نہیں دی تھی۔تو عجیب بات ہے، عجیب حال ہے ان لوگوں کا بیچاروں کا جو قطبوں کو چور بنا کر جیلوں میں پھینک رہے ہیں اور یہ جیلوں میں معصوم جانے والے اُن کے چوروں کو بھی قطب بنا رہے ہیں۔یہ ہے عظیم الشان روحانی انقلاب جو بر پا ہو رہا ہے اس ملک میں۔یہ صاحب جو اُس قید میں تھے یہ بتاتے ہیں کہ ہم چار بھائی ہیں تین بالغ اور ایک چھوٹا ہے اور تینوں کو اسی قسم کے الزامات کے نتیجہ میں پکڑ کر جیل بھیج دیا گیا اور ماں کا ایک بھائی ہے اس کو بھی ساتھ ہی جیل بھیج دیا گیا یعنی ان کے ماموں