خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 15
خطبات طاہر جلد۴ 15 خطبه جمعه ۴ /جنوری ۱۹۸۵ء کو چنا نچہ وہ رستا بستا گھر اسطرح خالی ہو گیا اور سوائے ماں کے اور ایک نابالغ بچے کے اس گھر میں کوئی نہیں رہا یعنی کوئی مرد ایسا نہیں تھا جو ان کی دیکھ بھال کر سکتا۔کہتے ہیں اس وجہ سے جب آخر خدا تعالیٰ نے جب ہمیں قید سے نجات بخشی تو ہم ڈرتے ڈرتے گھر میں داخل ہوئے کہ ماں کو پتہ نہیں کس حال میں دیکھیں گے۔جب گھر میں گئے تو دیکھا کہ ماں تو پہلے سے بھی زیادہ خوش تھی اور بڑی اچھی صحت اور بڑے حوصلہ میں تھی۔تو وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی ماں سے پوچھا کہ میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں کہ تین جوان بیٹے تیرے اندر ( قید میں چلے گئے اور بھائی قید ہوگیا اور تیرے چہرہ پر کوئی اثر ہی نہیں عجیب ماں ہے۔تو اس نے کہا کہ بیٹا تجھے علم نہیں کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے۔جب تمہیں پکڑ کر لے گئے تو وہ رات ایک ایسی درد ناک عذاب کی رات تھی اس کا پہلا حصہ کہ تم تصورنہیں کر سکتے۔میں رو رو کر ہلاک ہو رہی تھی گریہ وزاری کر رہی تھی واویلا کر رہی تھی کہ کیا ہو گئی اس گھر کے ساتھ اور اسی طرح روتے روتے میری آنکھ لگ گئی تو خواب میں اللہ تعالیٰ نے ایک بزرگ صورت انسان کو بھجوایا اور اس نے پیار اور دلداری کا سلوک نہیں کیا بلکہ اس نے آتے ہی بڑی سختی سے مجھے ڈانٹا کہ اے عورت! تو کیا کر رہی ہے خبر دار! جو آئندہ ایک بھی آنسو بہایا ، تو مجاہدوں کی ماں ہے اور تیرے ساتھ خدا ہے ، پھر یہ حرکتیں؟ وہ کہتی ہیں کہ خواب نہیں تھی کوئی ایسی طاقت تھی جس نے میرے دل پر قبضہ کر لیا اور اس کے بعد تو ایک لمحہ کے لئے بھی نہ مجھ پر اداسی آئی نہ خوف پاس پھٹکا میں تو مزے کی زندگی گزارتی رہی ہوں تم مجھے کس حال میں دیکھنا چاہتے تھے۔پس جن کے مردوں کا یہ حال ہو اور خدا اس طرح ان کے لئے رحمت کے نشان دکھا رہا ہوں اور جن کی عورتوں کا یہ حال ہو اور خدا اس طرح ان کیلئے رحمت کے نشان دکھا رہا ہو ان کا کون سے نقصان کا سودا ہے۔اور بچوں کا حال بھی کسی سے پیچھے نہیں رہا، ان کے اندر بھی عجیب و غریب معصوم تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اور ان میں بھی نہ ماں باپ کا دخل ہے، نہ میرا، نہ آپ کا اور کسی تنظیم کی کوشش کا دخل نہیں۔محض خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کے دلوں پر تقوی برس رہا ہے اور خدا کی رضا نازل ہو رہی ہے۔ایک احمدی ماں نے اپنے بچوں کی کھیلوں کا قصہ سنایا اور مجھے بڑا لطف آیا اور میں نے کہا کہ دیکھو! ہمارے بچوں کی کھیلیں بھی باقی سب بچوں سے مختلف ہوگئی ہیں۔کہتی ہیں کہ ایک اُن کے بچے کھیل رہے تھے اور انہوں نے جمعہ کے لئے قافلہ بنایا ہوا تھا کا روں کا جس طرح قافلہ جایا کرتا تھا