خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 13
خطبات طاہر جلد۴ فرما دیتا ہے۔13 خطبه جمعه ۴ /جنوری ۱۹۸۵ء اور پاکستان کے اندر جو تبدیلیاں ہیں وہ اس سے بہت زیادہ ہیں کیونکہ وہ اس توانائی کے مرکز کے قریب تر بسنے والے لوگ ہیں۔غموں کی جو شدّت وہ محسوس کرتے ہیں ، جو تمازت ان کے دلوں پر پڑ رہی ہے آپ تو دور سے اس کا نظارہ کر کے اپنے اندر یہ تبدیلیاں محسوس کر رہے ہیں اور تصور نہیں کر سکتے کہ ان کے دلوں پر کیا گزر رہی ہے اور کس طرح یہ آگ ان کے قلبی جو ہروں کو کندن بناتی چلی جارہی ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ آسمان سے کثرت کے ساتھ فضل نازل ہو کر ہر جگہ ان کے ایمان کو بڑھانے کا موجب ہورہے ہیں۔صرف کردار کی پاک تبدیلی نہیں ہے بلکہ نشانات بھی اُن پر نازل ہو رہے ہیں۔عزم کے نئے نئے پہاڑ سر کر رہے ہیں اور ہر پہاڑ پر خدا کی رحمت اور اس کی رضا کی تجلیات بھی دیکھ رہے ہیں۔بے شمار ایسے واقعات ہیں جن میں سے کچھ میں بیان کر چکا ہوں۔سارے بیان کرنا تو بہر حال ممکن نہیں ہیں لیکن چند میں نے آج کے خطبہ کے لئے چنے ہیں نمونہ آپ کے سامنے رکھنے کے لئے۔جہاں تک احمدی مردوں کے کردار کا تعلق ہے ہمارے وہاں ایک ایسے ضلع میں جہاں جہالت بہت زیادہ ہے۔وہاں چند نو جوانوں کو محض اس جرم میں پکڑا گیا کہ انہوں نے اذانیں دیں یا انہوں نے السلام علیکم کہایا انہوں نے مسلمانوں کی طرح Behave کیا یا تبلیغ کی۔یعنی وہاں کے جرائم کی اب یہ فہرست ہے پاکستان میں قتل و غارت، زنا، بدکاریاں ظلم ،سفا کی ، آنکھیں نکال لینا، اعضاء کاٹ دینا محرموں کے ساتھ نامحرمانہ تعلقات، یہ تو اب ادنی ادنی با تیں ہوگئی ہیں۔بڑے جرائم جو پاکستان کی کورٹ میں اس وقت نمایاں حیثیت اختیار کر گئے ہیں جن کے متعلق صدارتی آرڈینینس نازل ہورہے ہیں وہاں ، جن کے متعلق گورنروں کو احکام جاری ہور ہے ہیں کہ خبر دار اتنے سنگین جرائم کو کبھی معاف نہیں کرنا یہ احمدی بیچارے ان جرائم کے مرتکب ہو گئے تھے، خدا کا نام لے رہے تھے کھلم کھلا اپنے دشمنوں کو السلام علیکم کہ رہے تھے اور اُن کے لئے دعائیں کرتے تھے اور مسلمانوں کی طرح Behave کر رہے تھے، یہ جُرم کیسے معاف ہو سکتا تھا۔ان کو جو پکڑ کر جیل میں پھینک دیا گیا اور ایک گھر کی جو حالت تھی اس کا ذکر میں بعد میں کروں گا ، اس وقت میں یہ بتا تا ہوں کہ جن کو جیل میں پھینکا گیا اس جیل میں جا کر اُن کے کردار میں ایک نئی چمک آ گئی۔وہ لکھتے ہیں کہ ہمارے اندر