خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 11 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 11

خطبات طاہر جلدم 11 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۸۵ء سمجھا کرتے تھے کہ وہاں دس پندرہ کی ایک کمزورسی جماعت ہوگی لیکن جب جمعہ پہ ہم اکٹھے ہوئے تو صرف مرد ہی 65 تھے خدا کے فضل سے اور عورتیں اس کے علاوہ بھی تھیں اور جو خدمت کرنے والی خواتین تھیں جو سب کا خیال رکھ رہی تھیں اور کھانا وغیرہ پکاتی تھیں اور ہر قسم کی خدمت کر رہی تھیں ان میں ایک یوروپین خاتون بھی تھیں جو حیرت انگیز اخلاص سے دن رات محنت کر رہی تھیں وہاں۔تو وہاں تو بالکل ایک نیا نقشہ نظر آیا جماعت کا۔وہاں خدا کے فضل سے پیرس کے ایک بہت اچھے علاقے میں جو صاف ستھرا اور معاشرہ کے لحاظ سے بھی صحت مند علاقہ ہے وہاں ایک بہت اچھا مشن خرید لیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو یہ مبارک فرمائے اور انشاء اللہ تعالیٰ اس کی جو قانونی Transaction ہے وہ بھی ایک دو مہینہ کے اندر ہو جائے گی اللہ تعالیٰ کے فضل سے۔سودا ہو چکا ہے پختہ ، رقم کا ایک حصہ ادا کر دیا گیا ہے اور دوسرا موجود ہے۔اسی طرح ایک اور جگہ بھی وہاں جائزہ لینے کی بھی ہدایت کر دی گئی ہے تا کہ فرانس میں ایک نہیں بلکہ دومشن قائم کئے جائیں۔تو جہاں تک بیرونی دنیا کا تعلق ہے اخلاص کا حال دیکھیں تبلیغ کا ذوق وشوق دیکھیں ، عبادتوں کا شوق دیکھیں، نئے نئے مشنز کا قیام دیکھیں، کس لحاظ سے یہ سال بُرا گذرا ہے؟ امر واقع یہ ہے کہ اتنے غیر معمولی فضل ہر سمت سے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوئے ہیں کہ اس کا شکر ادا کرنے کی طاقت ہم نہیں رکھتے۔یہ حق ادا نہیں ہو سکتا ہم سے اس لئے خدا کی رحمت کے سامنے سر جھکاتے ہوئے پرانے سال کی دہلیز سے گذریں اور نئے سال میں داخل ہوں اور خدا کی رحمت کے حضور یہ سر پھر بلند اٹھیں نہ کبھی۔کیونکہ جو خدا کے حضور شکرانہ کے طور پر اپنے سر جھکاتے ہیں انہی کو ہمیشہ سر بلندیاں عطا ہوا کرتی ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ خدا کے فضلوں میں بھی اسی طرح Acceleration آئے گی انشاء اللہ جتنی آپ اپنی کوششوں میں ایکسلا ریشن (Acceleration) کریں گے۔اللہ کی ہمیشہ سے یہ تقدیر جاری ہے کہ بندے کے تھوڑے کے مقابل پر اپنا بہت زیادہ ڈالتا ہے۔ایک غریب آدمی کچھ تھوڑا سا جب پیش کیا کرتا ہے کسی امیر کو تو اتنا تو نہیں لوٹا یا کرتا۔اتنا تو اگر وہ لوٹائے تو یہ بڑا ہی گھٹیا کام سمجھا جاتا ہے اور بہت ہی حقیر بات سمجھی جاتی ہے۔تو اللہ نے اپنے بندوں کو اگر یہ فطرت عطا فرمائی ہے تو آپ تصور نہیں کر سکتے کہ خدا تعالیٰ کا رد عمل کس قسم کا ہوتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے مختلف طریق پر ہمیں سمجھایا اور خلاصہ اس کا یہ ہے کہ آپ ایک معمولی سی حرکت کرتے ہیں اس کو خدا