خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 12
خطبات طاہر جلدم 12 خطبه جمعه ۴ /جنوری ۱۹۸۵ء تعالیٰ ایک لامتناہی حرکت میں تبدیل کر دیتا ہے اتنے فضل جاری فرماتا ہے کہ اس کو آپ گن نہیں سکتے ان کو آپ سمیٹ نہیں سکتے۔جہاں تک پاکستان کے حالات کا تعلق ہے ان کے فیض سے بھی یہاں آپ کے اندر روحانی تبدیلیاں ہو رہی ہیں یعنی اگر آپ غور کریں تو ان ساری ترقیات کا منبع اور مرکز پاکستان میں پیدا ہونے والا دُکھ ہے اس لئے وَعَسَى أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ (البقرہ: ۲۱۷) کا ایک عجیب منظر ہے جو ہم دیکھ رہے ہیں۔جس طرح تمام دنیا کی توانائی جو اس نظام سمسی میں ہم دیکھتے ہیں یہ سورج سے نازل ہو رہی ہے اسی طرح ہر قسم کی توانائی کے بعض مراکز ہوا کرتے ہیں۔یہ جو توانائی ساری دنیا میں جماعت احمدیہ میں پھیل رہی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس کا مرکز پاکستانی احمدیوں کے دکھوں میں ہے۔وہیں فرانس میں ایک فرانس کے مقامی باشندے جو خدا کے فضل سے مخلص احمدی ہیں انہوں نے ایک سوال کیا جس کے نتیجہ میں میں ان کو سمجھا رہا تھا کہ اس دور میں خدا تعالیٰ نے کس کس قسم کے فضل کئے ہیں۔میں نمونے ان کو بتا رہا تھا تو ایک میں نے ان کو یہ بتایا کہ بڑی کوششیں کی گئیں کبھی خدام الاحمدیہ کی طرف سے کبھی انصار اللہ کے طرف سے مختلف نظاموں کی طرف سے لیکن کئی ایسے تھے بیچارے نوجوان جو قابو ہی نہیں آتے تھے تربیت کے لحاظ سے، کبھی نماز کے قریب نہیں پھٹکا کرتے تھے۔ہر قوم میں کمزور ہوتے ہیں، ہمارے اندر بھی کمزور تھے لیکن کوشش کے باوجود ہماری پیش نہیں جاتی تھی ان پر۔میں نے ان کو بتایا کہ اب یہ دیکھیں کہ کیسے ہم یہ کر سکتے تھے، ہمارا تو اختیار ہی نہیں تھا کہ ایسے ایسے نوجوان مجھے خط لکھتے ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں بلکہ ہزار کے لگ بھگ ابتک خط ہو چکے ہوں گے ایسے کہ جنہوں نے یہ اطلاع دی ہے کہ ہم جو نماز کے قریب بھی نہیں پھٹکا کرتے تھے ہم اب تہجد گزار ہو گئے ہیں۔جب میں یہ واقعہ ان کو بتارہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے از دیا دایمان کا یہ سامان پیدا فرما دیا کہ میرے پہلو میں دائیں طرف جو نو جوان بیٹھا ہوا تھا وہ ایک دم بول پڑا کہ میں بھی ان میں سے ہی ہوں، میرا بھی یہی حال تھا۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں تہجد پڑھتا ہوں میں چندوں میں آگے آگیا ہوں ، ہمیں قربانیوں میں آگے ہوں ، تبلیغ کا شوق مجھ میں پیدا ہو گیا ہے۔حیران رہ گیا وہ فرانسیسی احمدی نوجوان یہ دیکھ کر کہ کس طرح خدا تعالیٰ فوراً گواہ بھی پیدا