خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 158 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 158

خطبات طاہر جلدم 158 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء دھکے کھاتے پھرتے ہو۔اوّل تو تمام علماء اور فضلاء کو چھوڑ کر ایک غیر مسلم کو تم نے لیڈر بنایا ہے۔کیا اسلام اب اس حد تک گر گیا ہے کہ اس کے ماننے والوں میں سے ایک روح بھی اس قابلیت کی نہیں ہے کہ اس طوفان کے وقت میں اس کشتی کو بھنور سے نکالے اور کامیابی کے کنارے تک پہنچائے۔کیا اللہ تعالیٰ کو اپنے دین کی اس قدر غیرت بھی نہیں رہی کہ وہ ایسے خطرناک وقت میں کوئی ایسا شخص پیدا کر دے جو محمد رسول اللہ ﷺ کا شاگرد اور آپ کے خدام سے ہو اور جو اس وقت مسلمانوں کو اس راستے پر چلائے جو اُن کو کامیابی کی منزل تک پہنچائے۔آہ ! تمہاری گستاخیاں کیا رنگ لائیں۔پہلے تو تم محمد رسول اللہ ﷺ کو سیح ناصری کا ممنون منت بنایا کرتے تھے اب مسٹر گاندھی کا مرہون احسان بناتے ہو؟“۔پھر فرمایا: حضرت مسیح ناصری علیہ السلام تو خیر ایک نبی تھے اب جس شخص کو تم نے اپنا مذہبی رہنما بنایا ہے وہ تو ایک مومن بھی نہیں ہے۔پس محمد رسول اللہ علے کی اس ہتک کا نتیجہ پہلے سے بھی زیادہ سخت دیکھو گے اور اگر باز نہ آئے تو اس جرم میں مسٹر گاندھی کی قوم کی غلامی اس سے زیادہ تم کو کرنی پڑے گی۔جتنی کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی امت کی غلامی تم کہتے ہو کہ ہمیں کرنی پڑی ہے“ (ایضاً صفحہ: ۸۷-۸۲) یہ ہے نعوذ باللہ من ذالک اسلام اور وطن کے غدار جماعت کی لیڈرشپ کا کردار۔یہ ہے ان کے رہنما کا کردار۔اس کے برعکس وہ لوگ جو اسلام اور وطن کے ہمدرد بنے بیٹھے تھے ان کا کردار کیا تھا وہ قبل از میں بیان ہو چکا ہے۔لیکن زیادہ دیر تک مسلمانوں کا یہ خواب جاری نہ رہ سکا۔ہجرت ہوئی ہزار ہا سادہ لوح مسلمان اپنی ساری عمر کی پونجیاں لٹا کر ہندوستان سے ہجرت کر گئے۔وہ اپنی جائیدادیں اپنے ہاتھوں سے اپنے ہندو بھائیوں کے سپر د کر گئے ، مسجد میں ویران کر گئے ،تجارتوں کوٹھوکریں ماریں اور حکومت کے مختلف محکموں میں ملازموں نے استعفے دے دیئے۔ایسا درد ناک منظر دکھائی دیتا ہے کہ وہ جو کہتے تھے کہ ہم تمہارے بغیر یہاں رہ کر کیا کریں گے۔ان کا اس وقت