خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 159 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 159

خطبات طاہر جلدم 159 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء فوری رد عمل یہ ظاہر ہوا کہ ایک مسلمان ملازمت سے استعفیٰ دیتا تھا تو اس اسامی کو پر کرنے کے لئے دس ہندوؤں کی درخواستیں پہنچ جایا کرتی تھیں۔کسی ایک ہندو نے بھی مسلمانوں کے ساتھ ہجرت نہیں کی۔اس کے برعکس وہ شخص جو ان کو راہ راست دکھا رہا تھا اور مسلمانوں سے سچی ہمدردی کا اظہار کر رہا تھا اس کو اور اس کے ماننے والوں کو مسلمانوں کی طرف سے شدید سزائیں دی جارہی تھیں۔یہ ان علماء کی تحریک اور ان کی رہنمائی کا نتیجہ تھا جو آج بھی پاکستان پر انہی بد نیتوں کے ساتھ قابض ہوئے ہوئے ہیں۔لیکن ہوش آیا تو بہت دیر کے بعد آیا۔چنانچہ اس وقت مولانا ابوالکلام آزاد جو عدم تعاون اور ترک موالات کی تحریک میں پیش پیش تھے کانگرسی علماء میں ان کا ایک بہت بڑا مقام ہے اور احراری مولویوں کا ان کے ساتھ بڑا گہرا رابطہ تھا، یہی مولانا صاحب لکھتے ہیں: کارفرما دماغوں کے لئے نازک گھڑیاں روز نہیں آتیں لیکن جب آتی ہیں تو انہی میں اصلی آزمائش ہوتی ہے۔ایسی ہی ایک گھڑی تھی جب پہلے پہل انقلاب خلافت کی خبریں ہمارے دماغوں سے ٹکرائیں۔یہی اس بات کی آزمائش کا وقت تھا کہ کہاں تک ہم میں دماغی قوت فعال پیدا ہوئی ہے؟ کہاں تک ہم نے ایسے معاملات کو سوچنا سمجھنا اور ان کی نزاکتوں سے عہدہ برآ ہونا سیکھا ہے؟ کہاں تک ہم میں یہ طاقت پیدا ہوئی ہے کہ دوستوں کی غلطی اور دشمنوں کی شماست میں پھنس کر راہ عمل گم نہ کریں؟ ضرورت تھی کہ ہم میں جولوگ صاحب فکر و عمل تھے کامل حزم و احتیاط سے کام لیتے ، دل اور زبان دونوں کی لگا میں کھنچی رہتی ( تبرکات آزاد مرتبہ غلام رسول مہر صفحه: ۲۳۸) لیکن پھر آگے جا کر بڑی حسرت سے کہتے ہیں: د لیکن جلد بازی اور بے لگامی سے خطرناک اور لا علاج ٹھوکریں لگ سکتی ہیں۔فرانسیسی ضرب المثل ہے ”جو گولی چل چکی وہ آدھے راستے سے واپس نہیں آئے گی اگر چہ واپسی کے لئے تم کتنے ہی بلاوے بھیجو۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گولی چل گئی اور آزمائش کے نتیجہ پر ہمارے لئے کوئی مبارک باد نہیں (ایضاً)