خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 151
خطبات طاہر جلدم 151 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء ہوسکتا ہے کہ وہ وہاں پنپ نہیں سکے گی۔پس تمہارے اس مفروضہ کی کیا حقیقت رہ جاتی ہے کہ جماعت احمد یہ مسلم ممالک میں پنپ نہیں سکتی اس لئے ان ممالک کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔اب میں تاریخی واقعات کو لیتا ہوں دنیا کو بڑے ٹھنڈے دل سے ان پر غور کرنا چاہئے۔یہ وہ واقعات ہیں جو تاریخ کے صفحات پر ایک دفعہ ایسی قلم سے لکھے جاچکے ہیں جنہیں اب مٹایا نہیں جاسکتا۔زمانہ کا قلم جب واقعات لکھتا ہوا گذر جاتا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت واپس جا کر اس قلم کے لکھے ہوئے کو مٹا نہیں سکتی۔اب یہ لوگ ساری دنیا میں جتنا چاہیں واویلا کرلیں ، نئی سے نئی تاریخ بنانے کی جتنی چاہیں کوششیں کر لیں لیکن جو واقعات منصہ شہود پر ایک دفعہ ابھر آئے ہیں اب کوئی ہاتھ نہیں جوان کو مٹا سکے۔چونکہ یہ داستان بہت لمبی ہے اور اختصار کی کوشش کے باوجود بھی میں سمجھتا ہوں کہ یہ مضمون بہت زیادہ لمبا ہو جائے گا اس لئے ہو سکتا ہے کہ آئندہ خطبہ میں بھی اسی مضمون کو جاری رکھا جائے اور پھر شاید تیسرے خطبہ میں بھی یہ تسلسل قائم رہے۔اس لئے اگر کچھ خطبہ اس وجہ سے لمبے بھی ہو جائیں تو امید رکھتا ہوں کہ دوست صبر و تحمل کا مظاہر کریں گے کیونکہ اب جماعت کی بقا اور اس کے مفاد کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم بڑی تفصیل کے ساتھ معترضین کو موثر جواب دیں اور اس رنگ میں جواب دیں کہ ان کے عامۃ الناس بھی سمجھ سکیں اور ان پر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جائے کہ جھوٹا کون ہے اور سچا کون ہے۔میں احباب کو تحریک خلافت (Khilafat Movement) کی طرف لے کر جاتا ہوں۔پہلی جنگ عظیم کے بعد نہ صرف سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں بلکہ بعض بڑی اہم جغرافیائی تبدیلیاں بھی ہوئیں ان میں سے ایک اہم تبدیلی ترکی میں آئی جس نے جنگ اول میں جرمنوں کے ساتھ مل کر اتحادیوں کے خلاف جنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس جنگ میں جرمن ہار گئے ، اتحادیوں کو فتح ہوئی تو ترکی کے سلطان عبدالحمید کو معزول کر دیا گیا۔اس کے بعد وہاں ایک زبر دست انقلاب برپا ہوا جس کے نتیجہ میں کمال اتاترک بر سر اقتدار آ گئے اس طرح ترکی میں ایک سلطنت جو خلافت کے نام پر جاری تھی اس کا خاتمہ ہو گیا تو ہندوستان میں مسلمانوں نے خلافت کے احیاء کی تحریک چلا دی جو دراصل انگریزوں کے خلاف تھی کہ انہوں نے ایک مسلمان خلافت کا خاتمہ کیا ہے اس لئے مسلمانوں کو خصوصاً ہندوستان کے مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا چاہئے۔مگر اس جہاد کی آواز عرب