خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 152 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 152

152 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء خطبات طاہر جلدم شخصیتوں پر کے کسی ملک سے نہیں اٹھی۔ہندوستان سے ایک وفد ترکی بھجوایا گیا جو مسلمان علماء اور بعض سیاسی پر مشتمل تھا وفد نے کمال اتاترک سے ملاقات کی اور انہیں خلافت کی پیش کش کی اور کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔کمال اتاترک نے بڑے تعجب سے باتیں سنیں اور اس پیش کش کو یہ کہتے ہوئے رد کر دیا کہ تم کیا باتیں لے کر میرے پاس آئے ہو میں نے بڑی مصیبت سے ترکی کو ان بوسیدہ خیالات سے باہر نکالا ہے اور اس کی بے وجہ پھیلی ہوئی سرحدات کو سمیٹ کر ملک کو داخلی اور خارجی طور پر محفوظ کیا ہے تو اب کس زعم میں اور کیا خیال لے کر میرے پاس آئے ہو۔چنانچہ کمال اتاترک نے اس پیشکش کو کلیۂ رد کر دیا۔لیکن ہندوستان میں اس وقت ایک ایسا جوش تھا اور علماء جن کو کل کی بھی خبر نہیں ، جن کو اپنے ماحول کا کچھ علم نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔کل کی خبر تو کیا ان کو آج کی خبر نہیں ، ان کے ماضی کی خبر نہیں ، زمانہ کے لکھے ہوئے سبق کو پڑھ نہیں سکتے ایسے علماء بڑے جوش و خروش سے مسلمانوں میں اپنی طرف سے ایک عظیم تحریک چلا رہے تھے جبکہ اس تحریک کی باگ ڈور ہندو کے ہاتھ میں تھی۔اس وقت ایک آواز تھی جو قادیان کی آواز تھی۔وہ آواز بڑی شدت اور زور سے اٹھی اور مسلمانوں کو بار بار نصیحت کی کہ تمہیں اس تحریک سے اتنا شدید نقصان پہنچے گا کہ پھر تم مدتوں سنبھل نہیں سکو گے۔یہ ایک بے معنی تحریک ہے ، عقل کے خلاف ہے اس لئے تم اس سے باز آجاؤ۔نتیجہ یہ نکلا کہ اس کلمہ حق کے کہنے کی وجہ سے احمدیوں پر اس قدر شدید مظالم توڑے گئے کہ احمدیوں کے خلاف بھی ایک پوری تحریک چل گئی اور بڑے درد ناک واقعات رونما ہوئے۔جگہ جگہ احمدیوں کے بائیکاٹ کئے گئے ، شدید گرمی کے دنوں میں پانی بند کئے گئے ، رات کو باہر سوتے تھے تو پتھراؤ ہوتے تھے۔اس زمانہ میں پنکھوں وغیرہ کا تو زیادہ رواج بھی نہیں تھا۔لوگ بھی نسبتا غریب تھے چنانچہ شدید گرمیوں میں کمروں کے اندر بچوں سمیت بند ہو کر سونا پڑتا تھا یا سونے کی کوشش کرنی پڑتی تھی کیونکہ یہ لوگ احمدیوں کے خلاف تحریک چلا رہے تھے کہتے تھے تم نے تحریک خلافت اور ترک موالات کی مخالفت کیوں کی ہے؟ ہم اسلام کی خدمت کر رہے ہیں تم کچھ اور باتیں کر رہے ہو۔اس لئے تمہاری سزا یہی ہے کہ تمہارے ساتھ بھی انگریزوں کی طرح سلوک کیا جائے اور تمہیں بھی مارا پیٹا جائے۔لیکن اس وقت قادیان سے اٹھنے والی ایک تنہا آواز تھی جس نے بار بار مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ تم خطر ناک غلطی کر رہے ہو۔یہ ترک موالات تھی کیا؟ یہ ایک ایسی تحریک تھی جس میں ہندوستان کے مسلمانوں کو ترک