خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 150
خطبات طاہر جلدم 150 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء ممالک میں پنپ نہیں سکتے اس لئے لازماً ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ تمام اسلامی ممالک تباہ و برباد ہو کر غیر اسلامی طاقتوں کے ہاتھ میں چلے جائیں۔جہاں تک اس الزام کے تاریخی جائزہ کا تعلق ہے یہ ایک بہت وسیع مضمون ہے۔اس کی تفصیل میں جانا اس مختصر سے وقت میں ممکن نہیں صرف اس بات کا تجزیہ کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اسلام یا مسلمانوں کو جب بھی کوئی خطرہ پیش آیا تو اس وقت صف اول میں جہاد کرنے والے جماعت احمدیہ کے افراد تھے یا جماعت پر الزام لگانے والے لوگ؟ اس سلسلہ میں تاریخ کے مختلف اوراق میں سے بعض چیدہ چیدہ اہم واقعات پیش کرتا ہوں۔جہاں تک اس دلیل کا تعلق ہے کہ مسلمان ممالک میں احمدی پنپ نہیں سکتے اس لئے وہ ان ممالک کو مٹانا چاہتے ہیں تو یہ ایک عجیب دلیل ہے جو سراسر غلط مفروضوں پر قائم کی گئی ہے اور اس میں شدید تضاد پایا جاتا ہے مثلاً یہ کہ مسلم ممالک میں جماعت ترقی نہیں کر سکی۔اس لئے جماعت انتقاماً ان ممالک کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔اس مفروضہ کو اگر درست تسلیم کیا جائے تو اس کا طبعی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چونکہ پاکستان میں جماعت نے ترقی کی ہے اس لئے اسے جماعت سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہئیے۔مگر پھر تمہاری قدغنوں کا کیا جواز ہے جو تم پاکستان میں جماعت پر عاید کر رہے ہو۔چنانچہ نام نہاد شرعی عدالت میں بھی مختلف وکلاء یہی دلیل پیش کرتے ہیں کہ یہ جماعت تبلیغ کے ذریعہ پھیلتی چلی جارہی ہے ، اسے ہم برداشت نہیں کر سکتے۔۱۹۷۴ء کی تحریک میں بھی اور اُس سے پہلی تحریکات میں بھی جس بات پر سب سے زیادہ واویلا کیا گیا تھا وہ یہی تھی کہ احمدی روکے سے رکتے نہیں، پھیلتے چلے جار ہے ہیں۔پس جماعت احمدیہ کو کسی ملک سے خطرہ کیسے پیدا ہو گیا کہ وہ اس سے پھیل نہیں سکیں گے اور اس میں پنپ نہیں سکیں گے یا پھر تم یہ فیصلہ کرو کہ پاکستان اسلامی ملک نہیں ہے اس لئے جماعت احمد یہ اس میں پھیل رہی ہے۔اگر یہ اسلامی ملک نہیں ہے تو تم کہاں سے پیدا ہو گئے پھر اسلام کے محافظ اور دعویدار ! تمہارا تعلق ہی کوئی نہیں، غیر اسلامی ملک ہے اس میں جو ہوتا ہے ہوتا رہے، تمہیں اس سے غرض ہی کوئی نہیں اور اگر اسلامی ملک ہے اور چونکہ اسلام کے نام پر یہ ملک قائم ہوا ہے اس لحاظ سے یقیناً اسلامی ملک ہے تو ساری دنیا میں سے جس ملک میں کثرت کے ساتھ اور ملک کے ہر طبقہ میں جماعت احمد یہ پھیلی ہے۔اس ملک یعنی پاکستان سے جماعت کو یہ خدشہ کیسے