خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 101
خطبات طاہر جلد۴ 101 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء مسیح علیہ السلام کی موت کا اعلان کیا ہے۔غرض مسیح کی موت کا یہی اعلان تھا جس نے برصغیر میں آپ کی مخالفت کی آگ بھڑ کا دی۔تو کون تھا انگریز کا حمایتی، ان کے خدا کو زندہ کرنے والا یا اُن کے خدا کو مارنے والا ؟ اتنی چھوٹی اور معمولی سی بات بھی جن عقلوں میں نہ آئے ان عقلوں کے متعلق انسان کیا کہہ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: پادریوں کی تکذیب انتہا تک پہنچ گئی تو خدا نے حجت محمد یہ پوری کرنے کے لئے مجھے بھیجا۔اب کہاں ہیں پادری تا میرے مقابل پر آویں۔میں بے وقت نہیں آیا، ہمیں اُس وقت آیا کہ جب اسلام عیسائیوں کے پیروں کے نیچے کچلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھلا اب کوئی پادری تو میرے سامنے لاؤ جو یہ کہتا ہو کہ آنحضرت ﷺ نے کوئی پیشگوئی نہیں کی۔یاد رکھو وہ زمانہ مجھ سے پہلے ہی گزر گیا اب وہ زمانہ آ گیا جس میں خدا یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ رسول محمد عربی مجس کو گالیاں دی گئیں جس کے نام کی بے عزتی کی گئی، جس کی تکذیب میں بدقسمت پادریوں نے کئی لاکھ کتابیں اس زمانہ میں لکھ کر شائع کر دیں۔وہی سچا اور بچوں کا سردار ہے۔پھر فرماتے ہیں: (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۲۸۶) سو بہت ہی خوب ہوا کہ عیسائیوں کا خدا فوت ہو گیا اور یہ حملہ ایک برچھی کے حملہ سے کم نہیں جو اس عاجز نے خدائے تعالیٰ کی طرف سے مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہو کر ان درقبال سیرت لوگوں پر کیا ہے جن کو پاک چیزیں دی گئی تھیں مگر انہوں نے ساتھ اس کے پلید چیزیں ملا دیں اور وہ کام کیا جو د قبال کو کرنا چاہئے تھا“۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ ص ۳۶۱-۳۶۲) غرض یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے الفاظ میں اعلان ہے کہ میں نے صلیب کو توڑ دیا اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ کے جو مخالفین ہیں جو بیرونی نظر سے آپ کو دیکھ رہے ہیں کیا اُن کے نزدیک بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ حربہ کامیاب رہا یا نہیں۔اور کیا مسیح علیہ السلام کا