خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 101 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 101

خطبات طاہر جلد۴ 101 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء مسیح علیہ السلام کی موت کا اعلان کیا ہے۔ غرض مسیح کی موت کا یہی اعلان تھا جس نے برصغیر میں آپ کی مخالفت کی آگ بھڑکا دی۔ تو کون تھا انگریز کا حمایتی، ان کے خدا کو زندہ کرنے والا یا ان کے خدا کو مارنے والا ؟ اتنی چھوٹی اور معمولی سی بات بھی جن عقلوں میں نہ آئے ان عقلوں کے متعلق انسان کیا کہہ سکتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : پادریوں کی تکذیب انتہا تک پہنچ گئی تو خدا نے حجت محمد یہ پوری کرنے کے لئے مجھے بھیجا ۔ اب کہاں ہیں پادری تا میرے مقابل پر آویں ۔ میں بے وقت نہیں آیا ، میں اُس وقت آیا کہ جب اسلام عیسائیوں کے پیروں کے نیچے کچلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھلا اب کوئی پادری تو میرے سامنے لاؤ او جو جو یہ کہتا ہو کہ آنحضرت ا نے کوئی پیشگوئی نہیں کی ۔ یا د رکھو وہ زمانہ مجھ سے ------- پہلے ہی گزر گیا اب وہ زمانہ آگیا جس میں خدا یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ رسول محمد عربی جس کو گالیاں دی گئیں جس کے نام کی بے عزتی کی گئی، جس کی تکذیب میں بد قسمت پادریوں نے کئی لاکھ کتابیں اس زمانہ میں لکھ کر شائع کر دیں۔ وہی سچا اور بچوں کا سردار ہے۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۲۸۶) پھر فرماتے ہیں : سو بہت ہی خوب ہوا کہ عیسائیوں کا خدا فوت ہو گیا اور یہ حملہ ایک برچھی کے حملہ سے کم نہیں جو اس عاجز نے خدائے تعالیٰ کی طرف سے مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہو کر ان دجال سیرت لوگوں پر کیا ہے جن کو پاک چیزیں دی گئی تھیں مگر انہوں نے ساتھ اس کے پلید چیزیں ملا دیں اور وہ کام کیا جو دجال کو کرنا چاہئے تھا۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ ص ۳۶۱-۳۶۲) غرض یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے الفاظ میں اعلان ہے کہ میں نے صلیب کو توڑ دیا اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ کے جو مخالفین ہیں جو بیرونی نظر سے آپ کو دیکھ رہے ہیں کیا اُن کے نزدیک بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ حربہ کامیاب رہا یا نہیں ۔ اور کیا مسیح علیہ السلام کا