خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 100 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 100

خطبات طاہر جلدم 100 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء تھا اس زمانہ کے علماء عیسائیوں کی تائید اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مقابلہ کر رہے تھے۔چنانچہ شدید مخالفتوں کے وقت جب کہ ایک طرف عیسائیت اور دوسری طرف اسلام کا جھگڑا تھا، ایک طرف بڑے بڑے عیسائی پادری تھے اور دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھے جو اسلام کے جرنیل کے طور پر اسلام کی تائید میں عیسائیوں سے ٹکر لے رہے تھے۔ایسے نازک وقت میں بھی احمدیت کے مخالف علماء کا یہ کردار رہا ہے کہ جب کبھی انہیں موقع ملتا تو وہ ہرگز عیسائی مناظرین کی تائید سے گریز نہ کرتے۔۔۔۔چنانچہ امرتسر میں ڈاکٹر ہنری کلارک کے ساتھ جو مشہور مباحثہ ہوا تو اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اشتہار کے ذریعہ اس بات سے ہندوستان کے تمام مسلمانوں کو آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ایک مجمل پیغام مجھ کو امرتسر سے پہنچا کہ بعض مولوی صاحب کہتے ہیں کہ اس مباحثہ میں اگر مسیح کی وفات حیات کے بارہ میں بحث ہوتی تو ہم اس وقت ضرور ڈاکٹر کلارک صاحب کے ساتھ شامل ہو جاتے۔لہذا عام طور پر شیخ جی اور ان کے دوسرے رفیقوں کو اطلاع دی جاتی ہے ( شیخ جی سے مراد اہل حدیث کے مشہور مولوی محمد حسین صاحب ہیں۔ناقل ) بلکہ قسم دی جاتی ہے کہ یہ بخار بھی نکال لو۔( سچائی کا اظہار، روحانی خزائن جلد نمبر ۶ ص ۷۴ ) بہر حال یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی تھے جو ایک طرف عیسائیوں سے برسر پیکار تھے اور صلیبی عقائد پر تابڑ توڑ حملے کر رہے تھے جبکہ دوسری طرف مسلمان علماء تھے جو آج احمد یوں کو گردن زدنی سمجھتے ہیں اور جھوٹے الزام لگا رہے ہیں کہ انگریز کی حمایت کے لئے کھڑے ہوئے تھے لیکن اُس وقت ان کا کردار اسلام کی پشت پر خنجر گھونپنے کے مترادف تھا۔وہ بڑی شدومد کے ساتھ حضرت مسیح علیہ السلام کو زندہ قرار دے رہے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قتل کو بار بار مباح قرار دے رہے تھے اور بڑے فخر کے ساتھ اعلان کرتے پھرتے تھے کہ انہوں نے ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک اس شخص کے خلاف شدید مخالفت اور نفرت کی ایک آگ لگا دی ہے اور صرف ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ کہتے تھے مکہ اور مدینہ کے علاوہ عرب کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک اس شخص کے خلاف نفرت اور عناد اور بغض کی فضا پیدا کر دی ہے کہ کیوں اس نے