خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1018
خطبات طاہر جلد۴ 1018 خطبہ جمعہ ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۵ء کے ایسے حکومت کے افسر اور غیر افسر بڑے بڑے چوٹی کے ڈاکٹر یہ لوگ جب وہاں گئے تو اس علاقے میں ایک نئی زندگی کی روح پیدا ہوگئی۔تو اب پھر اس طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔سندھی احمدی زمیندار اپنے علاقے میں آنے والے پسماندہ قوموں سے تعلق رکھنے والے ہندوؤں سے حسن سلوک کرے۔افسوس ہے کہ اس پہلو سے سندھ کے اکثر علاقوں میں شعور بیدار نہیں ہوا اور بجائے اس کے کہ ایسے موقع سے فائدہ اٹھا کر ان لوگوں کے دل جیتے جائیں ، ان سے حسن سلوک کیا جائے ، تالیف قلب کے نمونے دکھائے جائیں ، وہی عمومی رواج جو زمینداروں کا چلتا ہے وہ احمدی زمینداروں میں بھی جاری ہے۔اتنازیادہ سخت نہیں ہوگا، جان بوجھ کر کسی کا پیسہ دبانے کی روح نہیں ہوگی لیکن جہاں بس چلے ان سے بیگار ضرور لے لی جاتی تھی۔جہاں بس چلے کچھ نا انصافی کی طرف میلان پایا جاتا ہے۔غریب قومیں ہیں آگے سے کچھ کر نہیں سکتیں اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی فرق نہیں پڑتا ، جب سارے معاشرے میں ان سے استفادہ کیا جارہا ہے تو ہم بھی ان سے استفادہ کریں۔یہاں تک کہ بعض صورتوں میں تو بد دیانتی کی بھی شکایتیں ملیں۔حیرت کے ساتھ اور نہایت افسوس کے ساتھ مجھے یہ بیان کرنا پڑتا ہے کہ چند سال پہلے کی بات ہے بعض احمدی زمینداروں کے خلاف ہندو غریبوں نے خط لکھے کہ ہماری محنت کھا گئے ہیں اور جب میں نے آدمی بھجوا کر تحقیق کی تو پتہ لگا کہ بات ٹھیک تھی۔چنانچہ ان کی محنت ان کو دلوائی گئی۔یہ واقعات ایک دو سے زیادہ نہیں ہیں کہ واضح طور پر بد دیانتی سے محنت کھائی گئی ہو لیکن احمدیت کی سفید چادر پر تو بہت ہی بدنما داغ ہے۔اس لئے نہ صرف یہ کہ ان کے حق دینے ہیں بلکہ حق سے زیادہ دینا ہے ان سے حسن سلوک کرنا ہے۔یہ ریگستانوں کے جگر گوشے خود آپ کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔احمدی ماحول میں پہنچ جاتے ہیں اس وقت اگر آپ ان کو تبلیغ کرنا چاہیں ، ان سے پیار کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ معاملہ کریں اور توحید کا پیغام دیں تو ہرگز بعید نہیں کہ ایک دو سال کی کوششوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ لوگ مسلمان ہونا شروع ہو جائیں گے اور اب تو ان میں چونکہ اسلام سے وہ تنافر باقی ہی نہیں رہا۔ہر علاقے میں کوئی نہ کوئی ایسی بستی ہے جہاں خدا کے فضل سے اسلام کا پودا لگ چکا ہے۔اس لئے آج کل کے ماحول میں احمدی زمینداروں کے لئے بہت ہی آسان کام ہو گیا ہے۔تو میں سندھی احمدی زمینداروں کو یہ تحریک کرتا ہوں کہ وہ زیادہ سے زیادہ حسن