خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1019
خطبات طاہر جلدم 1019 خطبه جمعه ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۵ء سلوک اور محبت کے ساتھ اپنے ان آنے والے مزدوروں کو مسلمان بنانے کی کوشش کریں۔یہ لوگ سندھ کی جان ہیں ،سندھ کی ساری دولت ان کی مرہون منت ہے کیونکہ سندھ کا زمیندارہ ان قوموں کی محنت کے بغیر چل ہی نہیں سکتا۔جس زمانے میں وہاں خوشحالی ہو جائے یعنی اچھی بارشیں ہوں ، موسم اچھے ہوں تو سندھ بدحال ہو جاتا ہے کیونکہ فصلیں اتنی زیادہ ہیں کہ وہاں کے مقامی لوگ اپنی محنت سے ان کو سنبھال ہی نہیں سکتے۔تو وہاں کی خوشحالی پر سندھ روتا ہے کہ وہ علاقہ خوشحال کیوں ہو گیا ہے؟ اور جب وہ بدحال ہو اور محنت کے لئے آئے تو پھر یہ ان کو اور زیادہ بد حال بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ قوم کئی پہلوؤں سے بہت ہی اہمیت رکھتی ہے اور چونکہ یہی تو میں ہندوستان میں بھی پر لی طرف اسی قسم کے علاقے میں آباد ہیں اس لئے ہندوستان میں تبلیغ کے لئے نئے رستے کھل جاتے ہیں۔یہ لوگ ادھر سے تعلق رکھتے ہیں ادھر سے آتے جاتے ہیں اس لئے ہمارے نقطہ نگاہ سے جو ایک مبلغ جماعت ہیں بہت ہی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔تو میں امید رکھتا ہوں کہ اس کی طرف بھی توجہ کی جائے گی۔ہندوستان میں بھی وقف جدید قائم ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھا کام کر رہی ہے۔حیدر آباد دکن کے علاقے میں جہاں کثرت کے ساتھ نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں یا پنجاب کے علاقوں میں قادیان کے اردگرد جہاں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بیسیوں جماعتیں نئی قائم ہوئی ہیں وہاں زیادہ تر خدمت کی توفیق وقف جدید ہی کو ملی ہے لیکن ایک حصہ ابھی تک تشنہ ہے۔یعنی اس علاقے کو ایک اندرونی طلب پائی جاتی ہے کہ ہم تک بھی کوئی پہنچے لیکن ابھی تک ہم وہاں پہنچ نہیں سکے۔وہ ہے ”شدھی کا پرانا کا رزار وہ علاقہ جہاں کسی زمانے میں مھدھی کی تحریک چلی تھی اور اس کے جواب میں جماعت احمدیہ نے نہایت ہی مؤثر کا روائی کی تھی یہاں تک کہ سارے ہندوستان میں احمدیت کی عظمت کا ڈنکا بجنے لگا تھا۔اس علاقے میں ایک ہمارے معلم گئے ، ان کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پھر وہاں کے حالات قابل فکر ہیں۔اگر چہ فی الحال ابھی حالت اتنی زیادہ خراب نہیں ہوئی مگر قابل فکر ضرور ہے اور انہی قوموں میں دوبارہ مخفی طور پر شدھی کی تحریک چلا دی گئی ہے اور بعض جگہ اس کے اثرات نظر آنے شروع ہو گئے ہیں۔چنانچہ ہمارے احمدی معلم جو وہاں دورے پر گئے تھے انہوں نے لکھا کہ جب میرا رابطہ ہوا اور ان کو بتانا شروع کیا تو یہ محسوس ہوا کہ وہ خود نہیں چاہتے ہیں کہ