خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 86 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 86

خطبات طاہر جلد ۳ 86 خطبه جمعه ۱۰ فروری ۱۹۸۴ء تو صفت تو بہ ایک بہت ہی اہم صفت ہے اور آنحضرت ﷺ کی سنت سے پتہ چلتا ہے کہ اگر ایک معصوم بھی خدا تعالیٰ کی صفت تو ابیت سے مستغنی نہیں ہے ، اس سے بے پروا نہیں ہے تو گناہ گار بندوں کے لئے کس قدر ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفت تو ابیت سے استفادہ کے لئے ہردم کوشاں رہیں۔خدا تعالیٰ کی صفت مغفرت اور توابیت میں ایک فرق ہے کہ مغفرت یکطرفہ بھی چلتی ہے بغیر طلب کے بھی ہوتی ہے، وہ رحمانیت اور صفت مالکیت کے زیادہ قریب ہے اور تو ابیت کا نسبتاً زیادہ تعلق رحیمیت سے ہے۔رحیمیت جو بار بار آنے والی صفت ہے اللہ تعالیٰ کی اس میں بندہ کی مثبت کوششوں کا دخل ہوتا ہے۔رحمانیت میں بن مانگے دینے والے کا ترجمہ کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ خواہ کوئی وجود مانگے یا نہ مانگے یا مانگنے کے لئے پیدا بھی نہ ہوا ہو ، اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت جب جوش مار کر جلوہ دکھاتی ہے تو کوئی طلب نہیں ہوتی کسی طرف سے۔رحیمیت ، مثبت نیکیوں کے لئے یعنی مثبت اقدار کے لئے نیکیوں کے لئے ان سے بہت بڑھ کر پھل دینے کا نام ہے اور بار بار نیکیوں کا بدلہ دینے کا نام ہے۔اسی کا دوسرا پہلو ہے تو ابیت۔بندہ کی طرف سے کوئی حرکت ہو تب خدا تعالیٰ کی صفت تو ابیت ظاہر ہوتی ہے۔بندہ کی طرف سے حرکت نہ ہو تو تو ابیت حرکت میں نہیں آتی اس لئے دونوں کا ایک لازم و ملزوم کا تعلق ہے۔چنانچہ گنا ہوں سے بخشش کے لئے اگر چہ اللہ تعالیٰ جس گناہ کو چاہے بخش دے اپنی مغفرت کے نتیجہ میں لیکن جہاں تک ضمانت کا تعلق ہے صفت تو ابیت ضمانت دیتی ہے۔جس طرح اچھے عمل کا پھل دینے کی ضمانت دیتی ہے صفت رحیمیت اسی طرح گناہوں سے بچنے کی اگر کوئی ضمانت ہے اُن کے بداثرات سے بچنے کی کوئی ضمانت ہے تو صفت تو ابیت سے تعلق جوڑنے کے نتیجہ میں ملتی ہے، چنانچہ اسی مضمون کو قرآن کریم نے یہاں بھی بیان فرمایا: كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمُ سُوءًا بِجَهَا لَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ کہ یہ اتفاقی حادثہ نہیں ہوگا پھر کہ تم بخشے جاؤ گے۔یہ خدا نے اپنے نفس پر فرض کر لیا ہے، لازم قرار دے دیا ہے کہ اگر کوئی بندہ غفلت سے غلطی سے گناہ کرتا ہے اور پھر تو بہ کرتا ہے اور آگے آیات سے