خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 87
خطبات طاہر جلد ۳ 87 خطبه جمعه ۱۰ فروری ۱۹۸۴ء واضح ہے کہ اس میں تکرار بھی پائی جائے اور بار بار کی غلطیاں بھی ہوں بار بار تو بہ کرے تب بھی تو بہ کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔چنانچہ بندہ کے تو اب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بار بار بھی تو بہ کرتا ہے اگر گناہ کی تکرار ہوگی بعض صورتوں میں تو تبھی تو بہ کی تکرار ہوگی۔اس ضمن میں احادیث سے ثابت ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفاسیر سے ثابت ہے کہ ایسی صورت میں اس کا انجام اس کی آخری حالت کے مطابق طے ہوگا۔اگر وہ تو بہ کی حالت میں جان دے رہا ہے تو اس کے لئے بھی ضمانت ہے اور چونکہ یہ اختیار بندے کا نہیں ہے میں کب مروں اس لئے جہاں تک بندہ کا تقاضا ہے اسے بہر حال ہر حالت میں یہ کوشش کرتے رہنا چاہئے کہ میں تائب رہوں کیونکہ موت کا کوئی وقت مقدر نہیں ہے۔تو اگر ضمانت چاہتے ہیں تو تو بہ کی طرف متوجہ ہوں۔اس ضمن میں کچھ احادیث نبویہ ﷺ کا میں نے انتخاب کیا ہے جو قرآن کریم کی مختلف آیات کی تفسیر فرماتی ہیں اور مختلف پہلوؤں سے تو بہ کے اوپر روشنی ڈالتی ہیں۔جامع ترمذی کی حدیث ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور نے فرمایا ہر انسان خطا کا پتلا ہے لیکن ان خطا کاروں میں سے سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جو تو بہ کرتے ہیں۔(جامع ترمذی ابواب صفۃ القیامۃ والرقاق والورع) پھر الترغیب والترھیب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی کی روایت ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا جب بندہ اپنے گناہوں سے تو بہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کی یاد سے ان کے گناہ بھلا دیتا ہے اور اس کے جوارح اور اس کے زمینی آثار سے بھی اس کے نشان مٹا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جاملے گا اور کوئی اس کے گناہوں کا شاہد نہ ہوگا۔(الترغیب والترھیب کتاب التوبہ والزهد ) تو اب میں جو شدت معنوں کی پائی جاتی ہے یہ اس کا مظہر ہے تو اب میں تکرار بھی پائی جاتی ہے اور معنوں کی شدت بھی پائی جاتی ہے کہ بے انتہا تو یہ قبول کرنے والا ہے، انسانی تصور بھی نہیں پہنچ سکتا کہ کس حد تک اللہ تعالیٰ تو بہ کو قبول فرماتا ہے۔(الترغیب والترھیب کتاب التوبہ والزهد ) پھر الترغیب والترھیب ہی میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ مومن گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے اور تو بہ کرتا ہے پس وہ شخص بہت ہی خوش نصیب ، خوش بخت ہے جو توبہ کی حالت میں فوت ہو جائے۔(الترغیب والترھیب کتاب التوبہ