خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 85
خطبات طاہر جلد ۳ 85 خطبه جمعه ۱۰ فروری ۱۹۸۴ء اللہ تعالیٰ تواب ہے اور یہ وہ صفت ہے جو بندہ کی بھی ہے یعنی بندہ کی بھی ممکن ہے کہ بندہ بھی تو اب ہو جائے۔ویسے تو خدا تعالیٰ کی ہر صفت کو بندہ کسی نہ کسی رنگ میں اختیار کر سکتا ہے لیکن یہاں جب میں کہتا ہوں کہ بندہ بھی تو اب ہے تو ان دونوں معنوں میں ایک فرق ہے۔اللہ تعالیٰ کو جب تو اب کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو بہ کو بکثرت قبول کرتا ہے اور توبہ کے نتیجہ میں بہت رحم فرماتا ہے۔جب بندہ کو تو اب کہا جاتا ہے تو مطلب ہے کہ وہ بندہ جو بار بار تو بہ کرتا ہے اور تھکتا نہیں تو بہ کرنے سے اور مسلسل اُس کی ایک صفت بن جاتی ہے اس کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے کہ ہر وقت اللہ کے حضور تو بہ کرتا رہے ایسے بندہ کو تو اب کہتے ہیں۔اور تو اب ایک اور معنے میں بھی بندہ بن سکتا ہے کہ وہ لوگوں سے وہی سلوک کرے جو اللہ تعالیٰ تو اب ہو کر اپنے بندوں سے کرتا ہے۔وہ لوگوں کے لئے جب تو اب بنے گا تو ان معنوں میں وہ خدا کا مظہر ہو گا۔اس لحاظ سے حضرت اقدس محمد مصطفى ع تواب کامل تھے انسانوں میں سے۔یعنی آپ نے دونوں رنگ انتہا ء تک اپنا لئے ، تو بہ مسلسل کی اور ایسے گناہوں کی توبہ کی جو کئے ہی نہیں تھے یعنی ایسا عجز ایسی انکساری کہ یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ خدا کی کسی صفت سے بھی میں محروم رہ جاؤں۔خدا نے جب یہ روشن فرمایا آپ پر کہ میں تو اب ہوں یعنی تو بہ کرنے والے کی تو بہ کو قبول کرتا ہوں تو معصوم ہوتے ہوئے بھی اتنی تو بہ کی کہ کبھی کسی اور انسان نے ایسی توبہ نہیں کی۔یہ اللہ تعالیٰ سے عشق کا مظہر تھی تو یہ گناہ کی مظہر نہیں تھی۔جاہل لوگ جو دنیا کے کیڑے ہیں جن کو نفسانی حالتوں نے مغلوب کر رکھا ہے وہ آنحضرت علی پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ کثرت سے تو بہ کرنا بتاتا ہے کہ کثرت سے گناہ کئے تھے حالانکہ ان بیوقوفوں کو ان اعلیٰ مدارج کی خبر ہی کوئی نہیں ، ان بستیوں سے گزرے ہی نہیں وہ ، ان مقامات سے پوری طرح ناواقف ہیں کیونکہ وہاں ان کا قدم نہیں پڑا۔اللہ تعالیٰ کے کامل عاشق کے طور پر خدا کی ہر صفت سے محبت رکھتے تھے حضرت محمد مصطفی ﷺ اور ہر صفت سے حصہ لینے کے لئے آپ نے اتنی کوشش کی کہ کبھی کسی انسان کو ایسی کوشش نصیب نہیں ہوئی۔اس لئے گناہوں سے تعلق نہیں ہے اس تو بہ کا بلکہ عشق سے تعلق ہے۔دوسرے تو اب بنے بندوں کے لئے بھی اور جس طرح خدا اپنے بندوں کیلئے تو اب صلى الله ہوتا ہے، حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ اپنے غلاموں کے لئے تو اب ہوئے۔