خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 80 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 80

خطبات طاہر جلد۳ 80 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۴ء ذلیل اور نہایت ہی کمپنی کوشش کی گئی ہے یہود کی طرف سے اگر چہ نا کام ہو گئے وہ لوگ جو مقرر تھے اس کام پر لیکن یہ پہلے بھی کوششیں ہو چکی ہیں اور نہایت ہی خبیثانہ ارادے ہیں یہود کے۔ان کا مقصد یہ ہے کہ آہستہ آہستہ مسلمانوں کے معزز مقامات کو تباہ کر دیا جائے اور کچھ دیر کے بعد لوگ بھول جائیں گے اور پھر وہاں ہم ان کا معبد دوبارہ بنوانے کی بجائے اپنا معبد بنا ئیں اور پھر مسجدوں کو نا بود کرنے کے نتیجہ میں اگر چہ بظاہر مسلمان نابود نہیں ہوتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ شعار کا قوموں کی زندگی سے بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔جو قومیں اپنے شعار کی ذلت قبول کر لیں وہ ہلاک ہو جایا کرتی ہیں۔آخر ایک کپڑے میں کیا بات تھی جس سے جھنڈا بنایا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تربیت فرمائی صحابہ کی کہ جھنڈے کی حفاظت کرنی ہے اور بظاہر ایک بے وقوف آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ جھنڈے کو چھوڑ و جان بچانی چاہئے لیکن بالکل بر عکس آنحضرت ﷺ نے اس کے تعلیم دی ہے اور ایک جنگ کے موقع پر جو تین سپہ سالار آنحضور ﷺ نے یکے بعد دیگر مقررفرمائے تھے ایک زخمی ہوتا تھاوہ ایک ہاتھ سے جھنڈا دوسرے میں منتقل کر لیتا تھا۔وہ کاٹا جاتا تھا تو بعض دفعہ ٹنڈے بازؤوں سے انہوں نے جھنڈوں کو چھاتی کے ساتھ لپیٹا جب وہ بھی کاٹے گئے تب دوسرا آگے بڑھا اور جھنڈ انہیں گرنے دیا اور یکے بعد دیگرے تینوں جرنیل جو چوٹی کے تھے جنگی صلاحیتوں کے لحاظ سے وہ شہید ہو گئے اور جھنڈے کو نہیں گرنے دیا۔تو اس بات کو معمولی نہ سمجھیں یہ شعائر اللہ کی بہت بڑی عظمت ہوتی ہے اس لئے ساری دنیا میں مسلمانوں کو اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہئے۔اپنے اختلافات کو بھلانا چاہئے اور ا کٹھے ہو کر اس کا دفاع کرنا چاہئے۔اگر یہود کو یہ معلوم ہو جائے کہ ساری دنیا کے مسلمان اپنے شعائر کی عظمت اور احترام اپنے دل میں اتنار کھتے ہیں کہ بوڑھے اور بچے کٹ مریں گے لیکن شعائر کو تباہ نہیں ہونے دیں گے تو پھر مسلمانوں کو وہ کبھی تباہ نہیں کر سکتے۔ایسی عظیم زندگی پیدا ہو جائے گی کہ عالم اسلام میں کہ کوئی دنیا کی طاقت پھر اس زندگی کو مٹا نہیں سکتی۔ہم بھی حاضر ہیں ، جماعت احمدیہ کو شعائر اسلام کی خاطر ہر قربانی کے لئے تیار ہونا چاہئے اگر کوئی قوم بلائے شعائر کی خاطر قربانی کے لئے بلائے تو ہم حاضر ہیں۔یہ ہے وہ جہاد جو حقیقی جہاد ہے جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے اور جس کی اسلام نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ حکم دیتا ہے اس لئے