خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 79
خطبات طاہر جلد۳ 79 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۴ء رہتے ہیں اور وہ آگے اور پیچھے کرنے سے یہ بتاتے ہیں ہم اٹامک جنگ کے کتنا قریب آگئے ہیں یا کتنا دور ہٹ چکے ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ 1953ء میں وہ سوئی بہت ہی قریب آگئی تھی ایٹمی جنگ کے پھر 1974ء میں بہت قریب آگئی اور آج کل بھی جو تازہ خبر ہے وہ یہ ہے کہ وہ دومنٹ تک پہنچ چکی ہے یعنی ان کے نزدیک اگر 24 گھنٹوں کو منٹوں میں تقسیم کیا جائے تو دومنٹ رہتے ہیں صرف ایٹمی جنگ ہونے میں اور یہ عجیب اتفاق ہے، اتفاق نہیں کہنا چاہنے تصرف ہے اللہ تعالیٰ کا کہ جن دنوں احمدیت پر ظلم زیادہ ہوتے ہیں ان دنوں وہ سوئی ، ایٹم بم کی سوئی ، آگے بڑھ کر ہلاکت کے قریب پہنچ جاتی ہے۔چنانچہ 1953ء میں بھی مظالم ہوئے بہت سخت مظالم اور سوئی قریب پہنچ گئی۔1974ء میں بھی بہت مظالم ہوئے اور وہ سوئی قریب پہنچ گئی۔آج کل بھی مظالم ہورہے ہیں اور وہ سوئی قریب پہنچ گئی ہے تو اس لئے آپ کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے اس کا اور مظلوم کی دعا قبول ہوتی ہے اس لئے آپ ان کے خلاف بددعا نہ کریں کیونکہ آپ قبولیت کے مقام پر کھڑا کئے گئے ہیں۔آپ دعائیں کریں آپ کی دعائیں ان کو بچاسکتی ہیں اور کوئی چیز اب ان کو بچا نہیں سکتی۔خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: میں جماعت کو پھر دو دعاؤں کی طرف خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں۔ایک بارش کے لئے دعا اور ایک عرب دنیا کے لئے دعا۔بارش کے متعلق میں نے ایک گزشتہ خطبہ میں بھی ایک خوشخبری سنائی تھی کہ غانا میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بذریعہ تار یہ اطلاع معلوم ہوا کہ بہت بارش ہوئی اور بہت دیر کی خشک سالی خدا تعالیٰ نے دور فرما دی۔مزید بھی دعا کرنی چاہئے کیونکہ لمبی خشک سالی کے بعد بعض دفعہ ایک بارش کافی نہیں ہوا کرتی۔پرسوں رات کو بی بی سی کا پروگرام سنتے ہوئے معلوم ہوا کہ افریقہ ہی میں ایک اور ملک میں جو بالکل موت کے کنارے پر پہنچ گیا تھا خدا تعالیٰ نے موسلا دھار بارش فرمائی ہے اور ان کے بیان کے مطابق جل تھل بھر گئے بلکہ بعض جگہ Flood آگئے اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا تو معلوم ہوتا ہے جہاں ضرورتیں زیادہ ہیں وہاں قریب آرہی ہے رحمت آہستہ آہستہ، دعا کریں ساری دنیا میں خدا کی رحمت کی بارشیں ہوں۔ہمارے ملک میں خاص طور پر آج کل پانی کی بہت کمی آگئی ہے اور بارانی فصلوں کو سخت خطرہ ہے۔عرب دنیا میں ایک اور بڑا خطرناک واقعہ رونما ہوا ہے مسجد اقصیٰ کو بم سے اڑانے کی بڑی