خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 778 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 778

خطبات طاہر جلد ۳ 778 خطبه جمعه ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۴ء یعنی چار خوشخبر یوں کی حکمت یہ ہے چار دکھانے کی کہ ایک غم پائے گا تو خدا تعالی چارخوشخبر یاں دکھائے گا اور دشمنوں کو بہر حال ذلیل کرے گا کیونکہ اس وقت جماعت کی حالت سب سے زیادہ دنیا کی نظر میں گری ہوئی ہے کلیتہ بیچارگی کا عالم ہے اور کامل بے اختیاری ہے۔یہ وقت ہے خدا کی طرف سے خوشخبریاں دکھانے کا اور یہ وقت ہے ان خوشخبریوں پر یقین کرنے کا۔آج جو اپنے خدا کے دیئے ہوئے وعدوں پر یقین رکھتا ہے، آج جس کے ایمان میں کوئی تزلزل نہیں ہے وہی ہے جو خدا کے نزدیک معزز ہے، وہی ہے جس کو دنیا میں غالب کیا جائے گا اور اسے خدا کبھی نہیں چھوڑے گا کیونکہ جو تنزل کے وقت اپنے خدا کی باتوں پر ایمان اور یقین رکھتا ہے اس کے ایمان میں کوئی تزلزل نہیں آتا۔اللہ تعالیٰ کی تقدیر اس کے لئے ایسے کام دکھاتی ہے کہ دنیا ان کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔پس آج وقت ہے اپنے رب کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے کا ، اپنے رب کے ساتھ پیار کرنے کا، محبت کا رشتہ مضبوط کرنے کا۔آج آپ یقین رکھیں کہ ہمارا خدا ہم سے سچے وعدے کرتا رہا ہے، آج بھی سچا وعدہ کر رہا ہے کل بھی بچے وعدے کرتا رہے گا اور بظاہر دنیا کے نزدیک ہم ذلت کی کسی بھی انتہا تک پہنچ چکے ہوں لیکن تمام عزتوں کا مالک خدا ہمارے ساتھ ہے اور ہمارا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گا۔اس یقین پر حرف نہ آنے دیں اس کی حفاظت کریں کیونکہ آج کا وقت ہی دراصل آپ کے کل کا فیصلہ کرنے والا ہے۔اگر آج آپ نے خدا پر اپنے ایمان کو کمزور کر دیا ، اگر آج خدا کے وعدوں پر آپ کو شک پیدا ہونے شروع ہو گئے تو کل اگر تقدیر بگڑی تو آپ اس تقدیر کو بگاڑنے والے ہوں گے اس لئے اپنے یقین کی حفاظت کریں اور جہاں تک آپ کا بس چلتا ہے تدبیر کا بھی ہر طریق اختیار کریں۔ایک مومن کے لئے جو خدا تعالیٰ نے منصوبہ پیش فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ ایمان کامل رہے اور خدا کی تقدیر کے اوپر ایک دن بھی بے یقینی پیدا نہ ہو اور اسکے ساتھ اپنی تد بیر کو بھی انتہا تک پہنچا دے اس لئے جتنا دشمن جماعت احمدیہ کی مرکزیت پر حملہ کرنے کے لئے کوشش کر رہا ہے یا حملے کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اسی حد تک اس کا جماعت کی طرف سے برعکس ردعمل پیدا ہونا چاہئے چنانچہ میں نے جماعت کو بارہا یہ توجہ دلائی ہے کہ جب یہ آپ کی زندگی پر حملہ کر رہے ہیں یہ آپ کو نیست و نابود کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں اور یہی منصوبے بنارہے ہیں تو اس کا رد عمل یہ ہونا چاہئے کہ اس