خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 768 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 768

خطبات طاہر جلد ۳ 768 خطبه جمعه ۲۸ دسمبر ۱۹۸۴ء مرکزیت پر کیا گیا ہے۔ساری دنیا کی جماعتیں بے قرار ہو جاتیں اور ان کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہ رہتا، کچھ سمجھ نہ آتی کہ کیا کر رہے ہیں ، کیا کرنا ہے اور پھر جذبات سے بے قابو ہوکر غیر ذمہ دارانہ حرکتیں بھی ہو سکتی تھیں۔جس طرح شدید مشتعل جذبات کو اور زخمی جذبات کو اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی سنبھالنے کی، خلیفہ وقت کی عدم موجودگی یا بے تعلقی کے نتیجہ میں تو ناممکن تھا کہ جماعت کو اس طرح سے کوئی سنبھال سکتا۔بعض لوگ مجھے خط لکھتے ہیں تو آپ تصور نہیں کر سکتے کہ ان کا حال کیا ہے کس طرح وہ تڑپ رہے ہوتے ہیں! اس وقت وہ کہتے ہیں خدا کی قسم اگر آپ کے ہاتھ پر ہم نے یہ عہد نہ کیا ہوتا کہ ہم صبر دکھائیں گے ناممکن تھا ہمارے لئے ، ہمارے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیئے جاتے، ہمارے بچے ہمارے سامنے ذبح کر دیئے جاتے تب بھی ان ظالموں سے ہم ضرور بدلہ لیتے یہ حالت ہو جس جماعت کے اخلاص کی اور محبت کی اور عشق کی اسے خلافت کے سوا سنبھال ہی کوئی نہیں سکتا اس لئے ایک نہایت خوفناک سازش تھی۔اور پھر اس کی انگلی کڑیاں تھیں۔جن لوگوں کو جھوٹ کی عادت ہو ظلم اور سفا کی کی عادت ہو افتراء پردازی کی عادت ہو وہ کوئی بھی الزام لگا کر کوئی جھوٹ گھڑ کے پھر خلیفہ کی زندگی پر بھی حملہ کر سکتے تھے اور اس صورت میں جماعت کا اٹھ کھڑے ہونا اور اپنے قومی پر سے قابو کھو دینا، جذبات سے بھی قابو کھو دینا اور دماغی کیفیات پر سے بھی نظم وضبط کے کنٹرول اتار دینا ایک طبعی بات تھی۔ناممکن تھا کہ جماعت ایسی حالت میں کہ ان کو پتہ ہے کہ خلیفہ وقت ایک کلیتہ معصوم انسان ہیں، ان باتوں میں ہماری جماعت کبھی پڑی نہ پڑسکتی ہے، اس پر جھوٹے الزام لگا کر ایک بد کردار انسان نے اسے موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ناممکن تھا کہ جماعت اس کو برداشت کر سکتی۔جبکہ برداشت کرنے کے لئے خلافت کا جو ذریعہ خدا نے بخشا ہے اس کی رہنمائی سے محروم ہو تو اس صورت میں جماعت کا کوئی بھی رد عمل ہو سکتا تھا جو اتنا بھیانک ہو سکتا تھا اور اتنے بھیانک نتائج تک پہنچ سکتا تھا کہ اس کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور باوجود اس کے کہ ان باتوں کا ہمیں پہلے علم نہیں تھا ایک رات جس رات یہ فیصلہ ہوا ہے اس رات خدا تعالیٰ نے اچانک مجھے اس بات کا علم دیا اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ایک بڑے زور سے یہ تحریک ڈالی کہ جس قدر جلد ہو اس ملک سے تمہارا نکلنا نظام خلافت کی حفاظت کے لئے ضروری ہے، تمہاری ذات کا کوئی سوال نہیں۔ایک رات پہلے یہ میں عہد کر چکا تھا