خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 769
خطبات طاہر جلد ۳ 769 خطبه جمعه ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۴ء کہ خدا کی قسم میں جان دونگا احمدیت کی خاطر اور کوئی دنیا کی طاقت مجھے روک نہیں سکے گی اور اس رات خدا تعالیٰ نے مجھے ایسی اطلاعات دیں کہ جن کے نتیجہ میں اچانک میرے دل کی کایا پلٹ گئی۔اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ کتنی خوفناک سازش ہے جماعت کے خلاف جسے ہر قیمت پر مجھے نا کام کرنا ہے اور وہ سازش یہ تھی کہ جب خلیفہ وقت کو قتل کیا جائے اور جماعت اس پر اُبھرے تو پھر نظام خلافت پر حملہ کیا جائے ، ربوہ کو ملیا میٹ کیا جائے فوج کشی کے ذریعہ اور وہاں نیا انتخاب نہ ہونے دیا جائے خلافت کا، وہ انسٹی ٹیوشن ختم کر دی جائے اس کے بعد دنیا میں کیا باقی رہ جاتا۔خدا تعالیٰ کے اپنے کام ہوتے ہیں اور جن حالات میں اللہ تعالیٰ نے نکالا یہ اس کے کاموں ہی کا ایک ثبوت ہے یہ نہیں میں کہتا کہ یہ ہوسکتا تھا ناممکن تھا کہ یہ ہو جا تا ورنہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر سے ایمان اٹھ جاتا دنیا کا کہ خدا نے خود ایک نظام قائم کیا ہے، خود اس کے ذریعہ ساری دنیا میں اسلام کے غلبہ کے منصوبے بنارہا ہے اور پھر اس جماعت کے دل پر ہاتھ ڈالنے کی دشمن کو توفیق عطا فرما دے جس جماعت کو اپنے دین کے احیا کی خاطر قائم کیا ہے، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا تھا اسی لئے خدا تعالیٰ نے یہ انتظام فرمایا کہ دشمن کی ہر تد بیر نا کام کر دی اس ایک تدبیر کو نا کام کر کے اتنا بڑا احسان ہے خدا تعالیٰ کا کہ اس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے اتنا ہی کم ہے۔آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کتنے خوفناک نتائج سے اللہ تعالیٰ نے جماعت کو بچالیا، کتنی بڑی سازش کو کلیتہ نا کام کر دیا۔اس کے بعد دوسرے درجہ پر ان کا ہاتھ ابھی تک مرکزی تنظیموں پر اٹھ رہا ہے۔ربوہ کی مرکزیت کے خلاف وہ سازشیں کر رہے ہیں اور ان سازشوں کے نتیجہ میں ایک ایک کر کے وہ اپنی طرف سے ربوہ کے مرکزی خدو خال کو ملیا میٹ کرتے چلے جارہے ہیں۔چنانچہ شروع میں بظاہر معمولی بات تھی لیکن اسی وقت مجھے نظر آ گیا تھا کہ آگے ان کے کیا ارادے ہیں چنانچہ میں نے وہ لوگ جو خوش فہمی میں کوششیں کر رہے تھے ان کو بلا کر سمجھایا کہ تم کیوں وقت ضائع کر رہے ہو یہ کام نہیں ہوگا۔شروع میں انہوں نے کھیلوں پر ہاتھ ڈالا کہ ربوہ میں کبڈی ہوگی تو عالم اسلام کو خطرہ پیدا ہو جائے گا یعنی ربوہ میں اگر کبڈی ہوئی تو اس سے تمام دنیا میں عالم اسلام کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ربوہ میں اگر باسکٹ بال کا میچ ہوا تو اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے اور پھر پتہ نہیں کیا ہو جائے گا۔پھر کھیلوں سے یہ آگے بڑھے اور اجتماعات پر ہاتھ ڈالنے شروع کئے کہ لجنہ اماءاللہ کا اجتماع