خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 760 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 760

خطبات طاہر جلد ۳ 760 خطبه جمعه ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۴ء اُس پر احسان کئے گئے ہوں جب وقت آتا ہے آزمائش کا تو سب احسانوں کو بھلا کر مقابل پر وہ تکلیف پہنچاتا ہے اور تکلیف دیکھنی چاہتا ہے لیکن ایک شریف النفس انسان کا حال بالکل برعکس ہوتا ہے، لاکھ اس پر مظالم کئے گئے ہوں جب مصیبت کا وقت آتا ہے تو اس کے دل کی آواز بولتی ہے اور وہ اس ظالم کے لئے بھی بسا اوقات دل میں ہمدردی محسوس کرتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ مومن کو خدا تعالیٰ سارے زمانہ کے لئے ایک ماں کا مقام عطا فرماتا ہے۔اور وہ ماں کا مقام ایک ایسا مقام ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ہے دنیا میں، کسی رشتے میں اس کی مثال نہیں ہے۔مائیں تکلیفیں اٹھاتی ہیں اور بعض دفعہ اپنے بچوں کے ہاتھوں تکلیفیں اٹھاتی ہیں اور پھر بھی ان کی خیر چاہتی چلی جاتی ہیں اور جب مامتا حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے تو بعض دفعہ وہ بچوں کی خیر چاہنے میں اس کا نقصان بھی کر دیتی ہے لیکن اس کے باوجود اس کے خیر چاہنے کے جذبہ میں کبھی کوئی فرق نہیں آتا۔چنانچہ ایک ماں کا ایسا ہی قصہ مشہور ہے کہ ایک ماں نے اپنے بچے کی پرورش کی اور اس کے ساتھ بے حد محبت کی یہاں تک کہ وہ بچہ تربیتی لحاظ سے بہت ہی ناقص رہ گیا کیونکہ جب محبت بڑھ جائے تو بعض دفعہ تربیت میں کمی آجاتی ہے۔کئی بدیاں ، کئی خرابیاں، کئی برائیاں اس میں پیدا ہوئیں یہاں تک کہ بڑھتے بڑھتے وہ اپنی ماں کی طرف سے بھی بالکل غافل ہو گیا اور بے تعلق ہو گیا۔اس کی جب شادی ہوئی تو بد قسمتی سے اس کی بیوی بھی اسی قسم کی اسی مزاج کی تھی اور اس نے ماں کے خلاف مزید کان بھرنے شروع کئے اور بچے نے ظلم پر ظلم شروع کئے اپنی ماں کے اوپر لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بعض مامتائیں ایسی ہیں کہ وہ ہر تکلیف کے بعد بھی خیر کا کلمہ ہی بولتی ہیں اپنے بچوں کے لئے چنانچہ وہ بھی ایک ایسی ماں تھی جو کسی آزمائش کے وقت بھی بچے کی مخالف نہیں ہوئی بلکہ جہاں ا تک اس کا بس چلا اس کے لئے دعائیں بھی کیں اسکو خیر بھی پہنچائی اس کی بھلائی چاہی۔بعض دفعہ ایک انسان جب برائی کے بدلہ میں بھلائی کرتا چلا جاتا ہے تو بجائے اس کے کہ ظالم اس کو سرا ہے اور اسکے نتیجہ میں تبدیلی پیدا کرے وہ چڑنے لگتا ہے کہ کیا وجہ ہے اس کو غصہ کیوں نہیں آرہا، اسے تکلیف کیوں نہیں پہنچ رہی اور یہ واقعات ایسے ہیں جو روزمرہ کی زندگی میں ہمیں دکھائی دیتے ہیں۔ایک انسان کسی کو دکھ پہنچانا چاہتا ہے تو اگر وہ آگے سے ہنستا رہے تو رلانے والا