خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 759 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 759

خطبات طاہر جلد ۳ 759 خطبه جمعه ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۴ء ان کے دل نرم ہو جاتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ نیکی کی قدر فرماتا ہے ہر قوم میں نیکی کے وجود کا اثبات کرتا ہے ہمیں بتاتا ہے کہ قوموں کو بحیثیت مجموعی رد نہیں کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں ہر جگہ حسن پایا جاتا ہے، ہر جگہ اچھے لوگ ملتے ہیں تو وہ سارے لوگ بھی بڑی مصیبتوں کے وقت میں دکھ اٹھاتے ہیں، معصوم بچے دکھ اٹھاتے ہیں، عورتیں اٹھاتی ہیں، مرد بھی اٹھاتے ہیں، بوڑھے اور بیمار دکھ اٹھاتے ہیں۔تو یہ جو حرکت ہے یہ ایک بہت ہی خطرناک حرکت ہے۔جماعت احمدیہ کے لئے جو خطرات ہیں یہ تو ہمیں خواہ کتنے سنگین دکھائی دیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ہر خطرہ کے بعد جماعت احمدیہ کے اوپر اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتوں اور برکتوں کی بارشیں نازل ہوئی ہیں۔کوئی بھی ایسا وقت نہیں آیا جماعت پر جسے ہم کڑا وقت کہہ سکتے ہیں جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بے انتہا فضل نہ فرمائے ہوں۔تو ہمارا تو ایک ضامن موجود ہے۔ہمارا تو ایک مقتدر موجود ہے جس کے ہاتھ میں ہمارا ہاتھ ہے وہ کبھی ہمیں ضائع نہیں ہونے دے گا۔اس کامل یقین کے ساتھ ہم ہمیشہ زندہ رہے ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے لیکن وہ بد نصیب جو اس مقتدر سے غافل ہیں جو اس کی تقدیر کے خلاف ترکیبیں سوچ رہے ہیں۔وہ ارادے ہیں کہ جو ہیں برخلاف شہریار (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه : ۱۳۲) اللہ تعالیٰ کے ارادوں کے خلاف، اس کی تقدیر سے ٹکرانے والی تدبیریں سوچ رہے ہیں ان کا تو کوئی ضامن، کوئی محافظ نہیں کوئی ولی نہیں ہے انکا اور امر واقعہ یہ ہے کہ انسان جو شریف النفس ہو جا تا ہے تو خواہ وہ کتنا چاہے کہ اس کا دشمن ہلاک ہو، دشمن پر ذلت آئے لیکن نفس کی شرافت کا یہ دستور ہے کہ جب دشمن پر بھی تکلیف آتی ہے تو وہ دکھ محسوس کرتی ہے۔جتنا چاہیں آپ دل میں یہ غبار رکھیں کہ ہم پر بہت ظلم ہوئے ، ہم پر بڑے ستم ہوئے ، اللہ کی پکڑ کب آئے گی؟ لیکن میں آپ کو بتاتا ہوں کہ جب بھی خدا کی پکڑ آئے گی آپ کو دکھ ہوگا کیونکہ شریف النفس انسان اپنے سامنے غیر کی تکلیف دیکھ نہیں سکتا۔خواہ کیسا ہی اس کو صدمہ پہنچا ہو جب تکلیف کا وقت آتا ہے تو وہ ساری باتوں کو بھلا دیتا ہے۔بالکل برعکس حال ہے لیم اور کمینے انسان سے ایک کمینہ فطرت انسان خواہ کتنے ہی