خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 761 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 761

خطبات طاہر جلد ۳ 761 خطبه جمعه ۲۸ دسمبر ۱۹۸۴ء یا رلانے کی کوشش کرنے والا یہ سمجھتا ہے کہ اسے وہ دکھ پہنچ نہیں رہا میں کہاں سے اس کو تکلیف پہنچاؤں کس جگہ ضرب لگاؤں کہ یہ بلبلا اٹھے ! چنانچہ صاحب حوصلہ لوگوں کو بعض دفعہ دشمن اور بھی زیادہ تکلیف دیتا چلا جاتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ تکلیف ہو ہی نہیں رہی شاید ورنہ اتنا صبر کیسے ہو گیا ؟ چنانچہ اس ماں کے متعلق یہ بیان کیا جاتا ہے کہ جب یہ حالت دیکھی بہونے کہ یہ تو کسی طرح غصہ میں نہیں آرہی، کسی طرح اس کو تکلیف پہنچ ہی نہیں رہی تو اپنے خاوند سے اس نے یہ درخواست کی کہ میں تو تب راضی ہونگی جب اس ماں کا سرکاٹ کر تھال میں سجا کر میرے سامنے پیش کرو گے کیوں کہ اب تک تو اس کو کوئی تکلیف نہیں پہنچی، جو کچھ بھی تم نے کیا ہے اس کے باوجود یہ بڑی خوش ہے اور اس بد کردار بیٹے نے ایسا ہی کیا۔جب وہ تھال پر سر سجا کر اپنی بیوی کی طرف جارہا تھا تو کہانی کے مطابق ٹھوکر لگی اور وہ سرزمین پر جاپڑا اور ساتھ ہی بیٹا بھی گر گیا۔اس وقت کہتے ہیں ماں کے منہ سے یہ آواز نکلی کہ اے میرے بیٹے ! تجھے چوٹ تو نہیں لگی ، تجھے تکلیف تو نہیں کوئی پہنچی یعنی کٹا ہوا سر کہانی میں بول پڑتا ہے۔اس میں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ایک واقعہ بیان کرنے کے لئے ایک مضمون سمجھانے کے لئے ایسی کہانیاں بنائی جاتی ہیں۔مراد یہ تھی کہ ماں کا سر کٹا ہوا زمین پر گرتا ہے اسے اپنی ہوش نہیں لیکن وہ بیٹا جوٹھو کر کھا گیا ہے اس حالت میں بھی اس کو اس ٹھوکر کی تکلیف پہنچ رہی ہے کہ میرے بیٹے کو اس سے کوئی صدمہ نہ پہنچا ہو، کوئی زیادہ چوٹ نہ لگ گئی ہو۔تو اللہ کے شریف النفس بندے بھی فی الواقعہ ماؤں کی طرح ہو جاتے ہیں۔ان کو قوم کی تکلیف کے نتیجہ میں لازما دکھ پہنچتا ہے خواہ وہ اسی وجہ سے تکلیف اٹھا ئیں کہ انہوں نے ان پر ظلم کیا ہے۔سب سے بڑھ کر اس کی مثال حضرت اقدس محمد مصطفی می کی ہے۔کتنا عظیم الشان خطاب ہے خدا کا آپ سے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء:۴۰) کہ اے محمد ( ع ) تجھے دکھ دینے والے ہمیشہ تیرا برا چاہنے والے ایسے ہیں کہ جب میں ان کی ہلاکت کی خبر دیتا ہوں تو ان کے غم میں تو اپنے آپ کو ہلاک کرنے لگ جاتا ہے۔کیسا دل ہے تیرا کہ تیرے دشمنوں کی ہلاکت کی میں تجھے خبر دیتا ہوں اور مجھے تیری فکر پڑ جاتی ہے کہ تو نہ اس غم میں ہلاک ہو جائے کہ تیرے دشمن ہلاک ہو جائیں۔یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ جس سے زیادہ سچا واقعہ بیان کرنا ناممکن ہے۔وہ کہانی جو میں نے