خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 756
خطبات طاہر جلد ۳ شدید دشمنی میں مبتلا ہیں ۔ - 756 خطبه جمعه ۲۸ دسمبر ۱۹۸۴ء امر واقعہ یہ ہے کہ جھوٹی عزت کا تصور بھی انسان کی عقل پر پردے ڈال دیتا ہے اور غصہ بھی انسان کی عقل پر پردے ڈال دیتا ہے۔ غرضیکہ ان کی عقلوں پر دوہرے پر دے ہیں۔ ایک عزت نفس کا جھوٹا پردہ اور ایک وہ دشمنی جو ہمیشہ سے اہل حق کے خلاف اہل باطل رکھتے رہے ہیں ۔ ان دونوں پردوں نے انکی عقل کو مفلوج کر دیا ہے اور وہ دیکھ نہیں سکتے کہ قرآن کریم جو ذی الذکر کتاب ہے۔ تمام دنیا کی نصیحتیں اس میں موجود ہیں اس کو دیکھیں اور اس سے استفادہ کریں اور وہ نہیں دیکھ سکتے كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ کہ یہ پہلا واقعہ تو نہیں ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مختلف زمانے کے لوگوں کو ہلاک کیا ہو وَ لَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ ۔ ایسے وقت آئے صاحب عزت قوموں پر اور ان قوموں پر جو حق کی دشمنی میں پاگل ہوئی چلی جاتی تھیں کہ خدا تعالیٰ کے بیان کے مطابق جب انکی پکڑ کا وقت آیا انہوں نے ایک دوسرے کو مدد کے لئے پکار او لاتَ حِينَ مَنَاصٍ لیکن وہ وقت مدد کا وقت نہیں رہا تھا ، وہ ایسا وقت نہیں تھا کہ خدا کی پکڑ کے خلاف کوئی ان کی مدد کو آسکتا اور آغاز ان کے انکار کا تعجب کی بنا پر ہے وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِر ان کو تعجب یہ ہے کہ ان میں سے ہی ایک ڈرانے والا کیسے پیدا ہو گیا؟ وَقَالَ الْكُفِرُونَ هَذَا سَجِرُ كَذَّابٌ اور انکار کرنے والوں نے کہا کہ یہ بھی کوئی جادوگر ہے اور بہت بڑا جھوٹا ہے۔ اس آخری آیت میں قرآن کریم نے انکار کرنے والوں کی نفسیاتی کیفیت بیان فرما کر انکار کی بنیادی وجہ بیان فرمادی ۔ اگر چہ اس ذکر کا آغاز عزت اور شقاق سے فرمایا یعنی وہ جھوٹی عزتوں میں مبتلا ہیں ، وہ نفرت میں مبتلا ہیں لیکن جب تجزیہ فرمایا کہ آغاز کیسے ہوا کفر کا تو اس میں دو باتیں بیان فرمائیں کہ وہ ساحر کہتے ہیں اور کذاب کہتے ہیں اور تعجب اس لئے ہے کہ ان ہی میں سے کیسے ایک نذیر آگیا ؟ اگر آپ اس آیت پر غور کریں تو آپ کو ایک بہت ہی حکمت کی بات ہاتھ آ، گی ، ایک گہرا نکتہ نظر آئے گا نفسیاتی جس کی بنا پر قو میں وقت کے انبیاء کا انکار کیا کرتی ہیں۔ اس آیت کو سمجھنے کے لئے کلید اس بات میں ہے کہ وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرُ مِنْهُمُ ان کو تعجب یہ ہے کہ ان میں سے کیسے کوئی نذیر، کوئی ڈرانے والا پیدا ہو گیا ؟ آئے بات یہ ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ انبیاء تشریف لاتے ہیں تو میں جھوٹی اور فریبی ہو چکی