خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 755
خطبات طاہر جلد ۳ 755 خطبه جمعه ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۴ء جماعت کے خلاف ایک عالمی سازش خطبه جمعه فرموده ۲۸ دسمبر ۱۹۸۴ء بمقام پیرس، فرانس) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ قَ شِقَاقٍ كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَلَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِّنْهُمْ وَقَالَ الكفِرُونَ هَذَا سُحِرَّ كَذَّابٌ۔(ص: ۲-۵) پھر فرمایا: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اپنے صادق نام کا ذکر فرما کر قرآن کی قسم کھا کر یہ بیان کرتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کے الفاظ میں پہلے خدا کی صادق صفت ا ذکر فرمایا گیا اور پھر قرآن عظیم کی قسم کھا کر یہ بیان کیا گیا کہ یہ ذی الذِّكْرِ کتاب ہے یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں ہر قسم کی نصیحتیں موجود ہیں، ہر قسم کے ایسے واقعات موجود ہیں جن سے اہل بصیرت نصیحت پکڑ سکتے ہیں۔بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ اس کے باوجو د بل کے ساتھ کیا گیا بل کا لفظ لا کر کہ باوجود اسکے کہ ایسا ہے اور ہر اہل فہم اہل بصیرت اس قرآن کریم سے نصیحت پکڑ سکتا ہے لیکن افسوس ان لوگوں پر جنہوں نے انکار کیا۔وہ عزت اور شقاق میں مبتلا ہیں، جھوٹی عزت کا زعم ان کو گھیرے ہوئے ہے ، ان کو ہوش نہیں آنے دیتا، ان کو حقائق کو دیکھنے سے محروم کئے ہوئے ہے اور