خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 757
خطبات طاہر جلد ۳ 757 خطبه جمعه ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۴ء ہوتی ہیں۔سحر سے مراد فریب کاری ہے اور کذاب جھوٹے کو کہتے ہیں کذب سے نکلا ہے یہ لفظ۔تو جو دو الزام ابنیاء پر رکھتے ہیں کہ فریب کا ر ہے اور جھوٹا ہے اور یہ اس وجہ سے رکھتے ہیں کہ وہ خود جھوٹ اور فریب کاری میں مبتلا ہو چکے ہوتے ہیں اور اتنے فریب کا ربن چکے ہوتے ہیں اتنے جھوٹے ہو چکتے ہیں کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان جیسے لوگوں میں سے نبی چن لیا ہے اپنے لئے ، ساری قوم جو جھوٹی ہو چکی ہو جو فریب کا ر ہو چکی ہو الا ماشااللہ ہر قوم میں استثناء موجود ہوتے ہیں لیکن قرآن کریم جب قوموں کی بات کرتا ہے تو عمومی حالت پر بات کرتا ہے مراد یہ ہے کہ انبیاء ایسے وقت میں آتے ہیں کہ جبکہ قومیں خود بھی فریب میں مبتلا ہوتی ہیں اور دوسروں کو بھی فریب دے رہی ہوتی ہیں خود بھی جھوٹی ہوتی ہیں اور دوسروں کو بھی جھوٹا سمجھ رہی ہوتی ہیں۔اس وقت جب اللہ تعالیٰ ان کی تقدیر بدلنے کا فیصلہ فرماتا ہے اور ان میں سے ہی ایک عام انسان کو اپنے لئے چن لیتا ہے کہ وہ قوم کو ڈرائے تو وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہم جیسے لوگوں میں سے کیسے خدا تعالیٰ کو ایک ایسا انسان مل گیا جو نہ فریب کار ہو اور نہ جھوٹا ہو؟ تو دراصل یہ ان کی نفسیاتی حالت کا پر تو ہے جو انبیاء کو جھٹلانے کا موجب بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسکے باوجود جیسا کہ ہمیشہ سے خدا تعالیٰ کی تقدیر کام کرتی چلی آئی ہے ایسی قومیں بالآخر اللہ کی پکڑ کے نیچے آجاتی ہیں اور جب خدا کی پکڑ کا وقت آتا ہے تو خواہ وہ کتنا ایک دوسرے کو مدد کے لئے پکاریں یا اپنے سے باہر سے کسی کو مدد کے لئے پکاریں اس وقت بچنے کا وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔جو حالات اس وقت پاکستان میں گزر رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے تشویش زیادہ پیدا ہو رہی ہے بہ نسبت اسکے کہ ان کی حرکتوں پر غصہ آئے۔دن بدن میر افکر تو ان کے لئے بڑھتا چلا جارہا ہے اور صرف ان کے لئے ہی نہیں عالم اسلام کے لئے بھی عموماً اور اس تمام دنیا کے لئے اس زمانہ کے انسانوں کے لئے بھی اس کی وجہ سے کہ جو کچھ پاکستان میں ہورہا ہے یہ کوئی تنہا ایک ملک میں ہونے والا واقعہ نہیں ہے بلکہ ایک عالمی سازش کے نتیجہ میں ہو رہا ہے۔اس عالمی سازش میں دنیا کی بڑی طاقتیں بھی ملوث ہیں اور اسلامی ممالک میں سے بعض ملک بھی ملوث ہیں اس لئے ان واقعات کی جڑیں بہت گہری اور بہت دور تک جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی۔ہم اگر یہ کہیں کہ فلاں بھی اس میں ذمہ دار ہے اور فلاں بھی اس میں ذمہ دار ہے تو دنیا والے تو کہیں گے تم اسی طرح