خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 725
خطبات طاہر جلد ۳ 725 خطبه جمعه ۱۴ / دسمبر ۱۹۸۴ء کی ایسی خدمت کی ہو تو کوئی بتائے تو سہی وہ کون تھا ؟ مولانا محمد حسین بٹالوی لکھتے ہیں کہ ان کی نظر میں ایسا کوئی شخص نہیں جو حضرت مرزا صاحب کے مقابل پر ایسی شان سے اسلام کے حق میں جہاد کر رہا ہو اور پھر وہ مزید تاکیداً لکھتے ہیں کہ کوئی اسے ایشیائی مبالغہ نہ سمجھے، تاریخ عالم پر نگاہ ڈالو اور بتاؤ کون ہے وہ مرد میدان جو مرزا صاحب کے مقابل پر جہاد اسلام میں آپ کی برابری کا دعویٰ کر سکتا ہو؟ الفاظ تو یہ میرے ہیں لیکن ان کے الفاظ جو تحریر میں ایک خاص شوکت رکھتے ہیں مجھے زبانی تو یاد نہیں لیکن وہ ہر بار پڑھنے سے ایک عجیب لذت محسوس ہوتی ہے کہ وہ جو عقائد میں آپ سے مختلف تھے ، جن کا آپ سے ایک عالمانہ دوستی کا تعلق تو تھا لیکن وہ عقائد جو جماعت احمدیہ کے عقائد ہیں ان سے ان کا دور کا بھی کوئی نہیں تھا لیکن خدا تعالیٰ نے جب حق نکلوایا زبان سے تو حق نکلا اور بڑے زور سے نکلا۔ایک دفعہ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے متعلق کسی نے سرفضل حسین صاحب سے شکایت کی کہ آپ تو ان کو سینے سے لگاتے ہیں اور یہ تو مرزا صاحب کے مرید ہیں جو نعوذ باللہ من ذلک آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے ہیں تو اندر سے وہ درمین اٹھا لائے اور انہوں نے کہا کہ مجھے اور تو کچھ پتہ نہیں کسی میں کچھ ذرہ ہی بھی شرافت ہو وہ اس کلام کو پڑھ لے اس کے بعد جو چاہے الزام لگائے حضرت مرزا صاحب کے اوپر رسول اکرم ﷺ کی دشمنی کا الزام نہیں لگا سکتا۔اس سے بڑھ کر عاشق رسول میری نظر سے نہیں گزرا۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب کہ سیاست میں شرافت اور حیا موجود تھی جبکہ شرف انسانی کی اقدارا بھی زندہ تھیں۔لیکن یہ تو بہت پرانی بات ہے اس عرصہ میں ملکوں میں تبدیلیاں پیدا ہوئیں، قوموں کے حالات اور اخلاق میں تبدیلیاں پیدا ہوئیں، یورپ میں بھی تبدیلیاں پیدا ہوئیں، ایشیا میں بھی تبدیلیاں پیدا ہوئیں اور اب ہم ایک ایسے مقام پر نکل آئے ہیں جہاں سیاست تو سیاست مذہبی راہ نما بھی ان اقدار سے عاری ہو چکے ہیں جوان کے مذہب ان پر عائد کرتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کسی قسم کا کوئی معیار بھی باقی نہیں رہا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور جماعت احمد پر یہ الزام کہ نعوذ باللہ من ذلک وہ گستاخ رسول ہیں اس سے زیادہ جھوٹا اور بہیمانہ اور ظالمانہ الزام اور کوئی نہیں لگایا جاسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی نے تو ہمیں عشق محمد مصطفی یہ سکھایا۔آپ ہی نے تو ہمیں وہ آداب بتلائے کہ کیسے محبت کی جاتی ہے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ سے؟ ہمیں وہ طریق سکھلائے کہ کس