خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 726 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 726

خطبات طاہر جلد ۳ 726 خطبه جمعه ۱۴ / دسمبر ۱۹۸۴ء طرح جانیں شار کی جاتی ہیں حضرت اقدس محمد مصطفی مے کے نام پر ہمیں یہ سمجھایا کہ : جان ودلم فدائے جمال محمد است خاکم نثار کوچه آل محمد است ایں چشمہ رواں کہ بخلق خدا دہم یک قطره زبحر کمال محمد است ( در تمین فارسی صفحه : ۸۹) آپ ہی نے ہمیں یہ بتایا کہ تم اگر زندہ ہو اور زندگی کی لذتیں چاہتے ہو یعنی روحانی زندگی کی تو وہ ساری لذتیں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے عشق کے سرچشمہ سے ملیں گی۔یہ آپ ہی تھے جنہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ زندگی جو محد مصطفی میلے کے در سے دور ہے اور آپ کے عرفان سے عاری ہے وہ زندگی اس لائق نہیں کہ وہ باقی رہے اس سے وہ موت بہتر ہے جو درست اور نادرست کے احساس سے ہی نابلد ہے۔آپ ہی نے ہمیں یہ بتایا کہ میرا کوئی مقام نہیں مگر یہی کہ میں خاک پائے مصطفی عمل ہوں اور جو کچھ بھی برکتیں تم مجھ پر نازل ہوتے دیکھتے ہو یہ کثرت درود کی برکتیں ہیں۔یہ وہ برکتیں ہیں جو عشق محمد مصطفی عملے کے نتیجے میں آسمان سے مجھ پر درود کے جواب میں نازل ہوتی ہیں، یہ آپ ہی تھے جنہوں نے ہمیں بتایا کہ : سب ہم نے اس سے پایا شاہد ہے تو خدایا وہ جس نے حق دکھایا وہ مہ لقا یہی ہے اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے ( قادیان کے آریہ اور ہم روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه : ۴۵۰ ) اردو کلام کو اٹھا کر دیکھئے، عربی کلام کو اٹھا کر دیکھئے ، فارسی کلام کو اٹھا کر دیکھئے منظوم کلام کو اٹھا کر دیکھئے نثر کے کلام کو اٹھا کر دیکھئے، ان الزام لگانے والوں کے آباؤ اجداد بیسیوں پشتوں تک جو کچھ آنحضرت ﷺ کی محبت کا اظہار کر چکے ہیں ان سب کو اکٹھا کر دیں تکڑی کے ایک پلڑے میں ڈال دیں اور دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کسی ایک کلام کا نمونہ رکھ دیں ،خدا