خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 724
خطبات طاہر جلد ۳ 724 خطبه جمعه ۱۴ / دسمبر ۱۹۸۴ء میں دخل اندازی اور مذہبی اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کسی مذہبی جماعت پر نہایت گندے بہتان تراشنا اور جھوٹے الزام لگانا یہ ایسے معاملات ہیں جن کے متعلق میری ذمہ داری ہے کہ میں ان کو متنبہ کروں۔چنانچہ چند دن پہلے پاکستان کے اخبارات میں صدر پاکستان کی طرف ایک ایسا بیان منسوب کیا گیا ہے جسے عقل تو باور نہیں کرتی کہ کسی ملک کے بھی ذی ہوش صدر کی طرف سے ایسا بیان جاری ہوا ہولیکن جب عجیب و غریب حرکتیں ہو رہی ہوں اور معاملات غلط روش پر چل پڑے ہوں تو کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ کیا ہورہا ہے۔ویسے ہمارے ملک کی صحافت بھی بد قسمتی سے اتنی قابل اعتماد نہیں اور جھوٹے الزامات لگانا، جھوٹ بولنا اور غلط افواہیں مشہور کرنا یہ تو ان کا روز مرہ کا کام ہے اس لئے Benefit of Doubt یعنی شک کی گنجائش کہاں رکھی جائے یہ بھی سمجھ نہیں آسکتی کہ کس کو مبر اسمجھا جائے غلط بیانی سے کس کو غلط بیانی میں ملوث قرار دیا جائے ، بہر حال وہ بیان ایسا ہے کہ اگر وہ سچ ہے تو پھر تہذیب اور تمدن اور عقل اور شرافت کے سارے تقاضے توڑ دیئے گئے ہیں کچھ بھی باقی نہیں رکھا گیا۔وہ بیان تمام تر تو میں آپ کے سامنے پڑھ کر نہیں سنا تا لیکن اس کی بنیادی باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔پہلا حصہ اس الزام کا جماعت احمدیہ کے متعلق ہے کہ نعوذ باللہ من ذلک جماعت احمد یہ گستاخ رسول ہے اور آنحضرت ﷺ کی شدید گستاخی کرتی ہے۔حیرت کی بات ہے کہ وہ جماعت جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے عشق میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا بیٹھی ہے، وہ جماعت جو تنہا سارے عالم میں آنحضرت ﷺ کی عزت اور شرف کی خاطر ایک عظیم جہاد میں مصروف ہے، وہ جماعت جس نے گزشتہ ایک سو سال سے تمام دنیا میں اسلام کا سر بلند کرنے کے لئے اپنی جانیں، اپنی عزتیں ، اپنے اموال ، اپنی اولادیں سب کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر رکھے ہیں ، وہ جماعت جس کے متعلق دشمن بھی اپنے عناد کے باوجود یہ ضرور تسلیم کر لیتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر اسلام کی تائید میں ، اسلام کی محبت میں خدمت دین کرنے والی اور کوئی جماعت سارے عالم میں نظر نہیں آتی۔وہ جماعت جس کے سربراہ کے متعلق مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے یہ لکھا کہ گزشتہ تیرہ سو سال میں آنحضرت ﷺ کے بعد اگر اس سے بڑھ کر کوئی مجاہد کبھی پیدا ہوا ہو جس نے اپنی زبان سے، اپنے افعال سے، اپنی مالی قربانی سے، اپنی جانی قربانی سے، دلائل اور براہین سے، اسلام