خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 718
خطبات طاہر جلد ۳ 718 خطبہ جمعہ ۷ / دسمبر ۱۹۸۴ء اب تو یہ ہر دوار کی باتیں کر رہے ہیں، کوئی زمانہ تھا کہ جب اسلامی حکومتیں سومنات کو مٹانے کے لئے اور کلمہ تو حید کو مندروں کے اوپر اور پہاڑوں کے اوپر اور وادیوں میں اور چٹانوں میں نمایاں روشنائی کے ساتھ لکھنے کے لئے جہاد کیا کرتی تھیں۔آج یہ زمانہ آ گیا ہے کہ سومناتی طاقتیں اسلام کے نام پر کلمہ پر حملہ آور ہو رہی ہیں، آخر کتنے بھی لوگ غافل ہوں اتنے اندھے بھی تو نہیں۔چنانچہ اس وقت پاکستان کی اطلاعوں کے مطابق ایک گہری رو چل پڑی ہے بڑی نمایاں طور پر جو دن بدن Surface کی طرف یعنی باہر کی سطح کی طرف حرکت کرتی چلی آرہی ہے اور اس کی تھر تھراہٹ کو یہ جاہل لوگ محسوس نہیں کر رہے مگر ہم دیکھ رہے ہیں اور کہیں کہیں اس کے بلبلے اٹھنے بھی لگے ہیں چنانچہ یہ بھی ایک عجیب ہے Irony of Fate جس کو کہتے ہیں یعنی تقدیر کا مذاق ہے ان لوگوں کے ساتھ کہ وہ بریلوی جن کو یہ مشرک کہا کرتے تھے، وہ بریلوی جن کے متعلق یہ کہتے تھے کہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق بھی نہیں یہ تو بنارس کے پنڈت ہیں ، یہ تو بت پرست ہیں ، یہ تو قبروں کو سجدہ کرنے والے ہیں، ہم ہیں دیو بندی جو کلمہ توحید کے محافظ ہیں۔آج یہ عجیب کھیل کھیلا ہے قدرت نے ان دیو بندیوں کے ساتھ کہ یہ کلمہ توحید کو مٹانے والے بن رہے ہیں اور بریلوی مسجدوں سے لعنت برس رہی ہے ان کے اوپر کہ کچھ حیا کرو، احمدی جو کچھ بھی ہیں کلمہ تو حید تو لکھتے ہیں اور کلمہ توحید کی خاطر مارے جارہے ہیں، ہم نہیں کہیں گے تمہارے مرنے والوں کو شہید ہاں جو کلمہ تو حید مٹانے والوں کو روکتے ہوئے مارا جائے گا۔وہ شہید ہے اگر شہید ہے تو۔یہ اعلان بھی بریلوی مسجدوں سے ہونے شروع ہو گئے ہیں اور میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ آواز بڑھے گی کیونکہ آخر بریلوی جیسے بھی ہوں ان کو خدا اور محمد مصطفی ﷺ سے محبت ضرور ہے۔محبت میں غلو بھی کرتے ہیں ، مجھے اس سے انکار نہیں جب محبت زیادہ دیر تک بے لگام ہو کر چلتی رہے ایک رستہ پر تو محبت بھی بہت بڑھ کر غلو میں داخل ہو جایا کرتی ہے اور حقیقتوں کو بدلا دیا کرتی ہے لیکن یہ کہنا درست ہے پھر بھی کہ غلو ہے تو محبت ہی میں غلو ہے ناں ، اس کے برعکس غلو نہیں ہے۔بدقسمتی سے وھابی لوگوں نے اور دیو بندی لوگوں نے کلمہ توحید کے نام پر ایسا غلو اختیار کیا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سچی محبت اور اللہ کی محبت کے نور سے بھی غافل ہوتے چلے گئے اور اب یہ دل خالی ہو گئے ہیں، ایسے دل بن گئے ہیں جہاں گھونسلے کی شکل تو باقی ہے، ان کے اندر کوئی زندہ پرندہ موجود