خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 719 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 719

خطبات طاہر جلد ۳ ا صلى الله 719 خطبہ جمعہ ۷ / دسمبر ۱۹۸۴ء نہیں رہا ، وہ محبت کا پرندہ جس کی پھڑ پھڑاہٹ محسوس ہو گھونسلے میں تو گھونسلے میں زندگی پیدا ہوتی ہے۔وہ محبت کی پھڑ پھڑاہٹ اب ان کے دلوں میں باقی نہیں ہے۔اگر ایک ادنی سانور بھی محبت کا دلوں میں باقی ہوتا تو مر جاتے اس بات سے پہلے کہ اپنی زبان سے یہ کلام نکالتے کہ ہم کلمہ مثانے جائیں گے، ہم کلمہ مٹا کے چھوڑیں گے ، ہم قبلہ بدلانے جائیں گے ہم قبلہ بدلا کے چھوڑیں گے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے بریلوی غلو کرنے والے غلطی خوردہ ہی سہی مگر بہر حال محبت میں غلو ہے اور احمدیت کی دشمنی پر ان کی محبت محمد مصطفی ﷺ اور محبت خداوند غالب آتی چلی جارہی ہے۔ہر چند کہ وہ بھی ہمارے شدید دشمن ہیں، ہر چند کہ کسی آنکھ ہمیں وہ پنپتا نہیں دیکھنا چاہتے لیکن اس محبت کا غلبہ ایسا ہے کہ اس نے ڈھانپ دیا ہے اس نفرت کو اور آج یہ آواز میں بلند کرنے لگے ہیں کہ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ کلمہ مٹانا چاہئے ،کسی کافر کی زبان سے بھی اگر کلمہ نکلے گا تو ہمیں خوش ہونا چاہئے کیونکہ ہمارے محبوب کا نام ہے، خدا کی توحید کا اعلان ہے۔کوئی مشرک بھی یہ اعلان کرے گا تو ہمارے دل باغ باغ ہو جانے چاہئیں کہ دیکھو اللہ کی توحید کا ایک مشرک کی زبان سے بھی اعلان ہونے لگا ہے۔تو یہ آوازیں بڑھ رہی ہیں اور پھیل رہی ہیں۔نہ اس حکومت کو پتہ ہے کہ کیا ہو رہا ہے اور خدا کی تقدیر کس طرح ان کے ساتھ کھیل رہی ہے اور کیا ارادے رکھتی ہے ان کے ساتھ اور نہ ان بدقسمتوں کو پتہ ہے جو چند پیسوں کی خاطر خدا کے نام پر توحید کے علمبر دار کہلاتے ہوئے بھی تو حید کو مٹانے کے درپے ہو چکے ہیں جو ناموس مصطفی " کے نام پر حضرت محمد مصطفی ﷺ کے نام کے اوپر سیاہیاں پھیر نے میں باک محسوس نہیں کرتے۔بہت ہی خوفناک اور دردناک دن آنے والے ہیں پاکستان پر لیکن میں پاکستان کے عوام سے اپیل کرتا ہوں خواہ وہ بریلوی ہوں، خواہ وہ دیو بندی ہوں ، خواہ وہ شیعہ ہوں، کسی طبقہ فکر سے تعلق رکھتے ہوں وہ براہ راست علما کی کھیلوں میں ملوث نہیں ہوا کرتے لیکن ایک سادہ لوح مسلمان کے طور پر جہاں تک عوام کا تعلق ہے ان میں بریلوی کیا اور دیو بندی کہلانے والے کیا اور وھابی کیا اور دیگر فرقوں کے لوگ کیا ان کے سادہ سے ایمان میں کلمہ کو ایک نمایاں شان حاصل ہے۔اگر وہ غریب بھی ہیں تو ان کی گودڑیوں میں لعلوں کی طرح کلمے چمک رہے ہیں۔یہ وہ آخری چیز ہے جو ان کی زندگی کا سرمایہ ہے جس سے وہ بے انتہا محبت کرتے ہیں تو میں ان کو اس محبت کا واسطہ دے کر کہنا چاہتا ہوں کہ