خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 705 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 705

خطبات طاہر جلد ۳ 705 خطبه جمعه ۳۰ نومبر ۱۹۸۴ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند اقتباسات کا میں نے ذکر کیا تھا جو صورت حال پر چسپاں ہونے والے ہیں ان کو پڑھ کر میں اس خطبے کو ختم کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ ان متکبر مولویوں کا تکبر توڑے گا اور انہیں دکھلائے گا کہ وہ کیوں کرغریبوں کی حمایت کرتا ہے اور شریروں کو جلتی ہوئی آگ میں ڈالتا ہے؟ شریر انسان کہتا ہے کہ میں اپنے مکروں اور چالاکیوں سے غالب آجاؤں گا مَكْرَ السَّيِّئ کا جو ذکر پہلے قرآن کریم میں گزرا ہے یہ اسی کی طرف اشارہ فرمایا جا رہا ہے۔اور میں راستی کو اپنے منصوبوں سے مٹا دوں گا اور خدا تعالیٰ کی قدرت اور طاقت اس سے کہتی ہے کہ اے شریر ! میرے سامنے اور میرے مقابل پر منصوبہ باندھنا تجھے کس نے سکھایا، کیا تو وہی نہیں جو ایک ذلیل قطرہ رحم میں تھا؟ کیا تجھے اختیار ہے جو میری باتوں کو ٹال دے؟“ پھر آپ فرماتے ہیں: یہ ان لوگوں کی غلطی ہے اور سراسر بد قسمتی ہے کہ میری تباہی چاہتے ہیں۔میں وہ درخت ہوں جس کو مالک حقیقی نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے جو شخص مجھے کا شنا چاہتا ہے اس کا نتیجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ وہ قارون اور یہودا اسکر یوطی اور ابو جہل کے نصیب سے کچھ حصہ لینا چاہتا ہے۔میں ہر روز اس بات کے لئے چشم پر آب ہوں کہ کوئی میدان میں نکلے اور منہاج نبوت پر مجھ سے فیصلہ کرنا چاہے پھر دیکھے کہ خدا کس کے ساتھ ہے؟۔۔۔۔۔اے لوگو! تم یقینا سمجھ لو کہ میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جوا خیر وقت تک مجھ سے وفا کرے گا۔اگر تمہارے مرد اور تمہاری عورتیں اور تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے اور تمہارے چھوٹے اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کے لئے دعا ئیں کریں یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ شل ہو جا ئیں تب بھی خدا ہر گز تمہاری دعا نہیں سنے گا اور نہیں رکے گا جب تک وہ اپنے کام کو پورا نہ کرے اور اگر انسانوں میں سے