خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 704 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 704

خطبات طاہر جلد ۳ 704 خطبه جمعه ۳۰ رنومبر ۱۹۸۴ء سے سارے اصول نکلتے ہیں۔وہ بیچ کی جڑ ہے جس سے آگے جڑیں پھوٹتی ہیں اس لئے اس بات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی احمدی کلمہ طیبہ کو چھوڑ دے گا یا کلمہ طیبہ کو مٹانے دے گا ان ظالموں کے ہاتھوں۔اگر کوئی حکومت بد کردار خود مٹاتی ہے تو دیکھیں اس حکومت کے ساتھ پھر خدا کیا سلوک کرتا ہے لیکن حکومت کے علاوہ جو لوگ ہیں خواہ احمدی کتنے ہی اس راہ میں مارے جائیں ان کو نہیں ہاتھ ڈالنے دیں گے۔بعض اصول ہیں جن کے نتیجہ میں ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر حکومت کے نمائندے کسی قانون کے تابع مٹاتے ہیں تو مزاحمت نہیں کی جائے گی لیکن کلمہ لکھا جائے گا، حکومت کا یہ حکم تسلیم نہیں کیا جائے گا کہ تم نے کلمہ چھوڑنا ہے۔اس راہ میں جو کچھ گزرتی ہے گزرے گی اس لئے ان دو باتوں کے درمیان میں رہنا ہوگا۔کسی آمر کی یہ بات تسلیم نہیں کی جائے گی کہ تم کلمہ چھوڑ دو اور قانون تمہیں منع کر رہا ہے اس لئے اپنا یہ حق اپنے ہاتھوں سے ترک کر دو۔جو چاہے وہ کر گزرے ہم دیکھیں گے ہمارا خدا اس سے زیادہ طاقتور ہے یا وہ ہمارے خدا سے زیادہ طاقتور ہے۔آنحضرت عمﷺ کو بھی ایک وقت کے جبار آمر نے اسی قسم کا ایک پیغام بھیجا تھا اور اس یمن کے بادشاہ کے ذریعہ یہ پیغام بھجوایا تھاکہ تمہاری گردن ہمارے ہاتھ میں ہے اس لئے حکم سنتے ہی چلے آؤ ہماری طرف۔چند دن دعا اور استخارہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے جواباً یہ پیغام بھیجا کہ اس سے جا کر کہہ دو کہ میرے خدا کے ہاتھ میں اس کی گردن ہے اس لئے میرے خدا نے مجھے بتایا ہے کہ ہم نے آج اسے ہلاک کر دیا تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ساری دنیا کی طاقتوں کی گردنیں ہیں۔پتہ نہیں کیوں دنیا کے متکبران باتوں کو بھول جاتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ سے ٹکر لینا ایک بہت ہی بڑا جہالت کا کام ہے، خود کشی ہے اور جب انسان ایسے مقامات پر فائز ہو جہاں وہ قوم کی نمائندگی کرتا ہو تو یہ قومی خود کشی بن جاتی ہے اس لئے ہم تو ایک حرف نصیحت کے طور پر اتنا کہ سکتے ہیں کہ یہ فعل نہ کرو اگر تم کلے مٹاؤ گے تو خدا کی قسم خدا کی غیرت کا ہاتھ تمہیں لازماً مٹادے گا اور پھر کوئی دنیا کی طاقت تمہیں بچا نہیں سکے گی لیکن چونکہ تمہارے دکھ بھی پھر ہمیں پہنچنے ہیں اس لئے ہم بار بار تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ ایسے افعال سے، ایسے بد افعال سے باز آجاؤ۔اتنی جہالت ، اتنا اندھا پن ہے کہ ان کو نظر نہیں آرہا کہ جن کو غیر مسلم کہتے ہیں وہ کلمے کی حفاظت میں مارے جار ہے ہوں گے اور وہ لوگ جو مسلمان بنتے ہیں وہ کلمہ مٹارہے ہوں گے۔یہ بھی ان کو نظر نہیں آرہا کہ کہاں تک وہ پہنچ چکے ہیں۔