خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 693
خطبات طاہر جلد ۳ 693 خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۸۴ اٹھانا، اس سے نظریاتی فائدہ صرف نہیں اٹھانا بلکہ عملی فائدہ اٹھاؤ اور عملی زندگی میں ایک تغیر بر پا کر دو۔یہ اگر پیدا ہو جائے تو اس ابتلا سے ہر پہلو سے جماعت کامیاب اور سرخرو ہوکر نکلے گی ،ایک نئی جماعت وجود میں آجائے گی ، ایک نئی زمین پیدا ہو گی ، ایک نیا آسمان پیدا ہوگا اس لئے بہت ضرورت ہے کہ ہم بڑی تفصیلی کوشش اور محنت کے ساتھ جماعت کے تنظیمی اداروں کے سر براہ بھی اور افراد اپنے طور پر بھی یہ کوشش کریں کہ ہم اپنی بدیوں کو جھاڑ دیں، اس ابتلا کے دوران اور نیکیاں پیدا کر کے نیکیوں کا لباس اوڑھ کر اس سے نکلیں اور اس وقت یہ سب سے آسان ہے۔اگر اس وقت اس سے کام نہ لیا گیا تو پھر جو جماعت ابتلا میں اصلاح نہ کر سکے پوری طرح وہ اچھے حالات میں کبھی نہیں کیا کرتی یہ تو اصولی بات ہے۔کہتے ہیں لوہا جب نرم ہو اسی وقت اس کو شکلیں عطا کی جاسکتی ہیں۔جب لوہا سخت ہو جائے تو پھر جس حالت میں سخت ہو گیا ہو پھر ویسا ہی رہ جاتا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ سونا جب آگ میں پڑتا ہے تو کندن بن کے نکلتا ہے۔ضرور نکلتا ہے لیکن کندن بنانے کا طریقہ ہوتا ہے اس لئے اسے کندن بنانے کی فکر کریں۔اس آگ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں اور اب تو دن بھی معلوم ہوتا ہے کہ تھوڑے رہ گئے ہیں اس لئے پیشتر اس کے کہ وہ آسانی کے دور آجائیں اور اللہ تعالیٰ کی فتح کو ہم نازل ہوتے دیکھیں ، ہم اس فتح کیلئے ایک سبھی ہوئی دلہن کی طرح تیار ہو جائیں ، سولہ سنگھار کر لیں اپنے اخلاق اور اعمال کی دنیا میں ایک نئی جماعت وجود میں آئے۔یہ ہے وہ حقیقی فتح جس کا انتظار ہونا چاہئے اگر یہ فتح نصیب نہ ہو تو پھر دوسری ہر فتح بے معنی ہے۔اگر یہ حالت پیدا ہو جائے تو اس حالت میں جو شخص بھی مرتا ہے وہ لاز مأخدا کے حضور ایک معز ز انسان کے طور پر مرتا ہے کیونکہ یہی ہے جو کلام الہی ہمیں بتا رہا ہے: مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا (فاطر:1) تم عزتیں چاہتے ہو تم جن کو دنیا میں ذلیل کیا گیا ہے، تو عزتوں کے طریقے ہم تمہیں سیکھا دیتے ہیں تم یہ طریق اختیار کرو کہ اپنے پاک خیالات کے مطابق اپنے اعمال کو پاک بنانا شروع کر دو تو تم اس دنیا کی نہیں بلکہ آسمان کی عزتیں پا جاؤ گے، تم ملاء اعلیٰ میں شمار کئے جاؤ گے، تمہاری باتیں ہی صرف عرش کے کنگروں کو نہیں چھو رہی ہونگی بلکہ تمہارا وجود آسمان کے بہشتوں میں داخل کیا جائے گا۔اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی تم آسمانی وجود شمار کئے جاؤ گے۔کتنا عظیم الشان ایک انعام ہے جس کی طرف قرآن کریم کی یہ آیت ہمیں بلاتی ہے