خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 692 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 692

خطبات طاہر جلد ۳ 692 خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۸۴ صناع ویسے دیانت دار نہیں جیسا کہ اسلام انہیں دیکھنا چاہتا ہے۔ہمارے مزدور اس طرح دیانتداری سے اپنی مزدوری کا حق ادا نہیں کرتے جس طرح اسلام ان کو دیکھنا چاہتا ہے۔ہمارے کارخانہ دار اپنے صناعوں سے ویسا حسن سلوک نہیں کرتے جیسا کے اللہ تعالیٰ ان دیکھنا چاہتا ہے۔ہمارے مالک جو مزدور سے کام لے رہے ہوتے ہیں وہ اس کے جذبات کا، اس کی ضرورتوں کا ، اس کے احساسات کا ویسا خیال نہیں کرتے جیسا کے اللہ تعالیٰ ان کو دیکھنا چاہتا ہے اور ہمارے تاجر بسا اوقات ایسی رپورٹیں ملتی ہیں کہ ان میں ایک بڑا حصہ ایسا ہے جو دیانتداری کے اعلیٰ تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ربوہ کے دوکانداروں کو انہی دنوں میں میں توجہ دلایا کرتا تھا، ربوہ کے مزدوروں کو توجہ دلایا کرتا تھا، ربوہ کے تانگہ بانوں کو توجہ دلایا کرتا تھا کیونکہ جلسہ کے دن قریب آنے تھے کہ اس طرف توجہ کرو بہت دور دور سے لوگ آئیں گے اور دیکھیں گے۔لیکن اب تو لوگ آئیں یا نہ آئیں، احمدی آکر دیکھیں یا نہ دیکھیں تمام دنیا کی نگاہیں جماعت احمدیہ کی طرف مرکوز ہو چکی ہیں اس لئے جلسہ سالانہ کا ایک ایسا منظر پیدا ہو گیا ہے کہ ساری دنیا ہی اس جلسہ سالانہ میں سے گزررہی ہے۔کبھی جماعت کو اس غور سے نہیں دیکھا گیا جیسا اس دور میں دیکھا جا رہا ہے۔کثرت سے لوگ آتے ہیں اور آکے توجہ کرتے ہیں پوچھتے ہیں۔جہاں جہاں سے خطوط ملتے ہیں دنیا کے ہر حصے سے یہ خبر بڑی نمایاں ملتی ہے کہ جن لوگوں کو کبھی کوئی پیغام بھی نہیں ملا تھا وہ اس عام شور کی وجہ سے جو دنیا میں بپا ہوا ہے لوگ آتے ہیں دیکھتے ہیں کہ کس قسم کے لوگ ہیں ، کیا ان کے حالات ہیں، کیسی ان کی زندگیاں ہیں ،اور بڑی گہری نظر سے جماعت کا مطالعہ کر رہے ہیں۔اصل تو خدا کے در کے درویش اور فقیر وہ ہیں جو خدا کی خاطر بداعمالیوں سے ہجرت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نیکیوں کی طرف حرکت کرتے ہیں۔یہ وہ حرکت ہے جو خیالات کو رفعتیں بخشے گی ، یہ وہ حرکت ہے جو ان کی دعاؤں کو طاقت عطا کرے گی اور وہ بلند ہونگی۔اس حرکت کی ضرورت ہے اس لئے ربوہ بالخصوص اس لئے میرا مخاطب ہے کہ ربوہ جماعت کا مرکز ہے اور ربوہ میں جتنا دکھ اس وقت موجود ہے اتنا میری ہوش میں تو کبھی یاد نہیں کہ اتنا شدید دکھ بھی پیدا ہوا ہو۔بچہ بچہ شدید دکھ میں مبتلا ہے اس لئے یہ ایک خزانہ ہے اگر ہم قرآن کی حکمتوں کے مطابق اسے استعمال کریں، ان حکمتوں کے مطابق جو قرآن ہمیں سکھاتا ہے اور قرآن فرماتا ہے کہ اس سے صرف جذباتی فائدہ نہیں